Dienstag, 27. November 2012

ظفر اقبال کے جواب میں :عابد خورشید

ظفر اقبال کے جواب میں :عابد خورشید

یہ مکتوب نما مضمون عابد خورشیدنے بھیجا ہے۔ظفر اقبال کے دو نازیبا کالموں کے جواب میں اس مضمون میں بعض اہم ادبی معاملات پر علمی انداز میں بات کی گئی ہے۔چونکہ ان ساری باتوں کا ذکر میرا جی کے حوالے سے ہی آیا ہے،اس لیے اس خط کو جناب عابد خورشیدکے شکریہ کے ساتھ یہاں شامل کیا جا رہا ہے۔اس سلسلہ میں کوئی مزید پیش رفت ہوئی تو وہ ریکارڈ بھی یہاں شامل کر لیا جائے گا۔
............................................................

عابد خورشیدؔ
................
محترمی و مکرمی
انچارج اَدبی صفحہ روزنامہ ’’دُنیا‘‘ لاہور
السلام علیکم !
دُنیائے صحافت کے فلک پر نمودار ہونے والے ایک روشن ستارے روزنامہ ’’دُنیا‘‘ میں ظفر اقبال صاحب نے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔موصوف اپنے کالم کے ذریعے متعصبانہ خیالات کا کھل کر اظہار فرماتے ہیں‘ جب کہ کالم نگاری کا بنیادی مقصد سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی ‘ مذہبی یا اخلاقی موضوعات پر اظہار رائے کرنا ہوتا ہے‘ تاکہ ایک متوازن نقطۂ نظر قارئین کے سامنے پیش کیا جا سکے‘جب کہ ظفر اقبال صاحب اپنے کالموں میں اَدبی شخصیات پر حملہ زن ہونے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ مثلاً اُنھوں نے ۱۷ ستمبر ۲۰۱۲ء کے کالم بعنوان ’’میراجی ایک مٹتی ہوئی تصویر‘‘ میں نظم کے صفِ اول کے شاعر کے متعلق توہین آمیز کلمات لکھے ہیں۔فرماتے ہیں:
’’اُس کی غزلیں ہرگز متاثر نہیں کرتیں‘ گیت بھی بس یوں سمجھے گزارہ ہی ہیں‘‘
’’چنانچہ میراجی کا بنیادی حوالہ اگر شاعری ہے تو نہ وہ متاثر کرتا ہے‘ نہ مائل‘‘
لگے ہاتھوں وہ دیگر مشاہیر اَدب کے بارے میں یوں فتوے صادر فرماتے ہیں :
’’یگانہ چنگیزی ایک معمولی درجے کا شاعر تھا‘‘
’’ڈاکٹر وزیرآغا اور احمد ندیم قاسمی کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اُنھوں نے شاعری محض اوڑھی ہوئی تھی‘‘
’’مجید امجد اور ن‘ م‘ راشد کی نظموں میں وہ گھلاوٹ ‘ اثرپذیری اور ازدل خیز دبردل ریز والی کیفیت نہیں ہے‘‘
اِسی کالم کی دوسری قسط میں جناب ظفراقبال کا انداز ملاحظہ فرمائیں:
’’میراجی تو محض میٹرک فیل آدمی تھا‘‘
’’]تنقید[ ایک غیر ضروری صنف ہے اور جن کے بارے میں بات عام ہے کہ ہر بگڑا ادیب نقاد بن جاتا ہے‘‘
’’اَدب کے ساتھ معمولی ربط ضبط رکھنے والا کوئی بھی شخص نقاد ہو سکتا ہے‘‘
یہ صحافت کی کون سی قسم ہے‘ جس میں محترم کالم نگار جو جی میں آئے لکھ دیں اور اُسے شائع بھی کر دیا جائے۔ساتھ ہی اُردو اَدب کی ایک مقتدر اَدبی شخصیت ڈاکٹر وزیرآغا کا محاسبہ کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔اس محاسبے کا محرک میراجی پر تحریر کردہ ڈاکٹر وزیرآغا کے وہ پانچ مضامین ہیں جو سہ ماہی ’’جدید اَدب‘‘ جرمنی(مدیر : حیدر قریشی) کے ’’میراجی نمبر‘‘ میں بڑے التزام سے شائع ہوئے ہیں۔ ظفر اقبال صاحب نے ان پانچوں مضامین کو تختۂ مشق بنا کر دراصل اپنے اندر کی وہ بھڑاس نکالی ہے جو ڈاکٹر وزیرآغا کے فقید المثال علمی و اَدبی کام کو دیکھ کر جلاپے کی صورت میں اُنھیں ہمہ وقت بے چین کیے رکھتی ہے۔ مذکورہ کالم میں ایک جگہ کچھ یوں فرماتے ہیں:
’’میراجی کی شاعری پر وزیرآغا کے پانچ مضامین شامل ہیں۔شاعری ڈل اور بے جان ہو تو تنقید بھی شگفتہ اور قابل مطالعہ نہیں ہو سکتی‘‘
کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ ’’شگفتہ تنقید‘‘ کی وضاحت بھی فرمادیتے! ممکن ہے ‘ وہ اپنے طور پر یہ فیصلہ کر چکے ہوں کہ اُن کی کالم نگاری ’’شگفتہ تنقید‘‘ کے معیار قائم کرنے کے لیے کافی ہے۔
خیر !یہ تو جملہ معترضہ تھا ‘ ظفر اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ آغاصاحب نے شاعری کو اپنے اوپر محض اوڑھ رکھا تھا اور یہی صورت حال احمد ندیم قاسمی کی بھی تھی۔ ہم یہاں یہ پوچھنے کی جسارت ضرور کریں گے کہ اگر اِن دونوں قابلِ احترام شخصیات نے شاعری کو خود پر اُوڑھ رکھا تھا تو کیا ظفراقبال صاحب نے شاعری کو نیچے زیب تن کیا ہوا ہے !مقام حیرت ہے کہ اسّی سال کی عمر کے پیٹے میں داخل ہو جانے کے باوجود ظفر اقبال صاحب کی زبان اور قلم کی تلخی اور تندی میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اُن کی تلخ نوائی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ماہنامہ ’’الحمرا‘‘ لاہور ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں غلام نبی اعوان نے ظفر اقبال صاحب کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے:
’’میرے محترم ظفر اقبال صاحب ان پھاوڑہ بازوں کی دوسری پیڑی سے ہیں۔ میں نے شروع میں ظفر اقبال صاحب کو پڑھنے کی کوشش کی لیکن اُن کی لفظی گتکے بازیوں سے میرے ذوق مطالعہ کو ایسا جھٹکا لگا کہ میں نے ان کی غزل پڑھنا چھوڑ دی ۔غزل پڑھتے ہوئے یوں لگا کہ میں کہیں لکڑیوں کے ٹال میں گھس آیا۔ جمال فکر و خیال سے کوری لفظوں کی ہیراپھیری ..... میں ایک عامی شخص ہوں اور ظفر اقبال کی اس قبیح تجربہ کاری پر اپنی علمی کم مائیگی کی وجہ سے دم سادھے ہوں۔ (الحمرا‘ لاہور‘ ص۱۳۷۔۱۳۶)
دوسری طرف ’’الحمرا‘‘ اگست ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شامل ظفر اقبال کی ’’حمد‘‘ کے بارے میں پروفیسر جمیل آذر صاحب یوں رقم طراز ہیں:
’’اِس شمارے کا سب سے تکلیف دہ کلام جناب ظفر اقبال کی تحریر کردہ ’’حمد‘‘ ہے۔ یہ حمدیہ کلام کے زمرے میں تو قطعاً نہیں۔ان کے کلام میں گستاخی اور بے اَدبی کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ اور وہ حدِ اعتدال سے گزر گئے ہیں..... ظفر اقبال صاحب سے گزارش ہے کہ وہ توبہ استغفار کریں کیونکہ میری طرح وہ بھی عمر کے اس حصہ میں ہیں جہاں رب العزت کی دل سے حمد و ثنا کی ضرورت ہے۔‘ ‘ (الحمرا‘ لاہور‘ ص۱۳۵)
اسی طرح‘ ’’الحمرا‘ لاہور ‘ اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں سید معراج جامی لکھتے ہیں:
’’ظفر اقبال صاحب کی حمد پڑھی۔اب ظفر اقبال صاحب اس مقام پر ہیں جہاں وہ ہر طرح کی تنقید و تجزیے سے گزر چکے ہیں۔ جہاں ساری دوا اور دعا ناکام ہو جاتی ہے ‘ بس تذکرہ ہی تذکرہ رہ جاتا ہے۔ (الحمرا‘ لاہور‘ ص ۱۳۹)
حمدیہ کلام میں تجربہ کاری کے نام پر ظفر اقبال صاحب کے متعارف کردہ گستاخانہ طرزِ بیان سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ عمر کے اس موڑ پر پہنچ کر وہ کس قسم کے ذہنی خلفشار سے دوچار ہیں۔ظفر اقبال صاحب کے حمدیہ اشعار کے چند نمونے دیکھیے

بلندی پہ ہو جائے گا فائز اور
کہیں میرے اندر اُترنے سے تُو
**
ابھی تیرا ہونا نہیں کھل سکا
کہ چلنے سے ہے یا ٹھہرنے سے تُو
**
ابھی مل نہ پائے گا اقرار سے
تو مل جائے شاید مُکرنے سے تُو
ہماری ظفر اقبال صاحب سے استدعا ہے کہ اپنے رہوارِ قلم کی باگیں ہاتھوں میں تھامنے کی کوشش فرمائیں۔ بصورتِ دیگر بقول شاعر
’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘
کی صورتِ حال پیدا ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
 ...................................................................... 

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
میرا جی کے صرف چار اشعار

 جن کی تقلید نے ظفر اقبال کو شاعر بنا دیا۔لیکن ظفر اقبال نے جہاں سے فیض پایا،اس کا نیازمندی کے ساتھ اقرار کرنے کی بجائے اسی کے خلاف لکھنا ضروری سمجھا۔
.......................................................

........................................................
ڈاکٹر مظفر حنفی کے مضمون ’’میرا جی:شخصیت کے ابعاد اور فن کی جہات‘‘ سے اقتباس،

بحوالہ جدید ادب جرمنی میرا جی نمبر ۔
....................... 
’’میرا جی کے متفرق اشعار پڑھتے ہوئے مجھے بے ساختہ

   ظفر اقبال یاد آگئے۔تین چار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
 

ملائیں چار میں گر دو تو بن جائیں گے چھ پل میں
نکل جائیں جو چھ سے دو تو باقی چار رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پوچھتے ہو ہم سے یہ ہے حالتِ جگر
پی اس قدر کہ کٹ ہی گیا آلتِ جگر
۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے کا رنگ زرد، مئے ناب کا بھی زرد
یہ رنگ ہیں کہ رنگ ہے پیشاب کا بھی زرد
۔۔۔۔۔۔۔۔
دن میں وظیفہ اس کا کئی بار کیجیے
اپنے جگر کے فعل کو بیدار کیجیے

 
یعنی زبان کی توڑ پھوڑ اور مضامین کی اکھاڑ پچھاڑ کا جو کام ظفر اقبال آج کر رہے ہیں،اُس کا آغاز میرا جی نے ۷۰۔۸۰ برس پہلے کر دیا تھا۔دیکھیں وہ میرا جی کے اس فیضان کا اعتراف کب کرتے ہیں۔
‘‘
.........................................................................................
میرا جی کے چار اشعار کے فیض نے ظفر اقبال جیسا شاعر بنا دیا

لیکن ظفر اقبال اپنی اصل اور بنیاد کا اقرار کرنے سے گریزاں
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

Dienstag, 6. November 2012

میرا جی صدی 1912 - 2012




REVIWES ON JADEED ADAB ISSUE 19
MEERA JI NUMBER


میرا جی صدی
  1912-2012
میرا جی صدی کے طور پرجدید ادب جرمنی کے میرا جی نمبر کی اشاعت کے بعد سنجیدہ علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے میرا جی کی طرف توجہ کی جانے لگی ہے۔ہر چند مختلف ادیبوں کی ذاتی ترجیحات کسی نہ کسی رنگ میں ادبی معاملات پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں تاہم خوشی کی بات ہے ،لوگ باگ اپنے نجی نوعیت کے تحفظات اور تعصبات کے باوجود میرا جی کے بارے میں لکھنے کی طرف مائل ہیں۔جدید ادب کے میرا جی نمبر کے بعد اس پر تبصروں اور ردِ عمل کا سلسلہ جاری ہے،جسے تدریجاََ اسی جگہ پیش کیا جاتا رہے گا۔

  DAILY DAWN KARACHI
میرا جی کے بارے میں
پانچ ادیبوں اور نقادوں کے مضامین
ڈیلی ڈان کی ایک اشاعت میں میرا جی کے بارے میں پانچ مضامین ایک ساتھ شائع کیے گئے ہیں۔یہ میرا جی کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔
تاہم جدید ادب کے میراجی نمبر کے حوالے سے ان مضامین کا کوئی تعلق نہیں۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جولائی ۲۰۱۲ء میں جب جدید ادب کا میرا جی نمبر شائع ہوا تو ڈان کے کسی ادبی بندے کو بھی احساس ہوا کہ میرا جی صدی کے سال کے جاتے جاتے نومبر میں سہی،ان کا اتنا سا اعتراف تو کر لیا جانا چاہیے۔چونکہ میرا جی کی نسبت سے یہ مضامین شائع کئے گئے ہیں ،اس لیے انہیں بھی یہاں ڈان کے مذکورہ بندے کے شکریہ کے ساتھ دیاجا رہا ہے۔
 
.................................................   
جدیدادب کا میرا جی نمبر: ایک تاثر.......مدثر بلال.....لاہور
http://nla.gov.pk/november2012.php?p=27
.................................................  
جدید ادب (جرمنی) کا ’’میرا جی نمبر‘‘ 
ایک منفرد ادبی دستاویز.........عامر سہیل ...ایبٹ آباد
.................................................   
میراجی نمبر ۱۰۰؍ویں سال گرہ ۔ ۔۔ ایک جائزہ
(جدید ادب جرمنی شمارہ : ۱۹ www.jadeedadab.com)
ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار.....شولاپور، انڈیا

http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Literature&article=906 
.................................................  
 میرا جی… جنازہ کیسے اٹھا، سال کیسے منایا گیا
   انتظار حسین
.............................. 
  انتظار حسین کے کالم کے حوالے سے دو وضاحتیں
 حیدر قریشی
........................................
 .........................................

یہاں انگریزی کے معروف اخبار ڈیلی ڈان کراچی کا لنک پیش کیا جا رہا ہے۔ڈیلی ڈان کے 4 نومبر2012ء کے شمارہ میں پانچ ادیبوں اور نقادوں کے مضامین ایک ساتھ شائع کیے گئے ہیں۔
DAILY DAWN KARACHI
4.11.2012
 ڈیلی ڈان کی ایک اشاعت میں میرا جی کے بارے میں پانچ مضامین ایک ساتھ شائع کیے گئے ہیں۔یہ میرا جی کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔
تاہم جدید ادب کے میراجی نمبر کے حوالے سے ان مضامین کا کوئی تعلق نہیں۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جولائی ۲۰۱۲ء میں جب جدید ادب کا میرا جی نمبر شائع ہوا تو ڈان کے کسی ادبی بندے کو بھی احساس ہوا کہ میرا جی صدی کے سال کے جاتے جاتے نومبر میں سہی،ان کا اتنا سا اعتراف تو کر لیا جانا چاہیے۔چونکہ میرا جی کی نسبت سے یہ مضامین شائع کئے گئے ہیں ،اس لیے انہیں بھی یہاں ڈان کے مذکورہ بندے کے شکریہ کے ساتھ دیاجا رہا ہے۔
.................................................................................................................................
 
جدید ادب کا میرا جی نمبر: ایک تاثر

مدثر بلال.....لاہور

 میرا جی بیسیویں صدی کے اردو ادب میں ایک اہم اور منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ میرا جی کا شمار جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ راشد فیض اور میرا جی معاصر شاعر ہیں اور ان کے سن ولادت میں معمولی سا فرق ہے لیکن میرا جی صرف ساڑھے سینتیس برس کی عمر میں اس مسافر خانے سے کوچ کر گئے لیکن ان چند سالوں میں میرا جی نےاردو ادب پر ان مٹ اثرات مرتسم کیے۔
 میرا جی جدید نظم کے نمایاں ترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کے نقاد، مترجم اور نثر نگار بھی تھے۔ میرا جی کے ہاں مغربی رجحانات کے ساتھ عصری اور سماجی شعوربھی پایا جاتا ہے۔انھوں نے حلقہ ارباب ذوق کے تحت جدید اردو نظم اور تنقیدکے لیے نئی راہوں کا تعین کیا۔ 
2012
 ء کو میرا جی کی صدسالہ جشن ولادت کی مناسبت سے میرا جی کے سال کے طور پر منایا جارہا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج شعبہ ار دو کے زیراہتمام مورخہ ۱۰ مئی ۲۰۱۲ء کو میرا جی کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے جرمنی سے جدید ادب کا میرا جی نمبر اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں نہ صرف میرا جی کی نظم و نثر پر اب تک ہونیوالے اہم کام کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے بلکہ میرا جی کی شاعری اور نثر کو معاصر عہد کے تناظر میں دیکھتے ہوئے نئے لکھنے والوں کی بھی ایسی بہت سی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو تنقید کے جدید رجحانات کی روشنی میں میرا جی کی ادبی خدمات کو ایک نئے رنگ اور ڈھنگ سے آشکار کر رہی ہیں۔
آغاز میں میرا جی پر کی گئی حیدر قریشی کی گفتگو جدید اردو ادب سے ان کے تعلق خاطر اور میرا جی سے ذہنی و جذباتی وابستگی کی آئینہ دار ہے جس کی بدولت انہوں نے انتہائی محنت اور لگن سے اس شمارہ خاص کو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے میرا جی صدی پر ایک تحفے کے طور پر پیش کیا ہے۔ میرا جی شناسی کے حوالے سے اس اہم پیش رفت پر ان کا مطمح نظریہ ہے کہ جیسے جیسے میرا جی کو زیادہ پڑھا جائے گا ویسے ویسے اس عظیم شاعر کی تفہیم کے امکانات کھل کر سامنے آئیں گے۔
ابتدائی حصے میں میرا جی کے سوانحی خاکے کو ڈاکٹر جمیل جالبی جیسے اردو ادب کے بڑے محقق نے اپنے احاطہ تحریر میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے جب کہ ہانی السعید نے میرا جی پر اب تک ہونیوالے تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی کام کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔ اسی طرح ن۔ م۔ راشد اور اختر الایمان کے میرا جی کے بارے میں خطوط اس عظیم شاعر کے مقام و مرتبے کی صورت گری ان کے معاصر نظم گو شعراء کی نظر سے کرتے ہیں۔
شمارے کا پہلہ حصہ میرا جی کو بحوالہ وزیر آغا سمجھنے کی ایک عمدہ کوشش ہے۔ میرا جی شناسی کے حوالے سے وزیر آغا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے اور اس اعتبار سے انہیں اپنے دوسرے معاصر ناقدین پر تفوق حاصل ہے کہ انہوں نے میرا جی کی نظموں کو ایک نئے تناظر میں پرکھا ہے۔
جدید ادب کے اس شمارے میں میرا جی کو بحوالہ وزیر آغا سمجھنے کے لیے قاری کے لیے ان کے تمام مضامین کو یکجا کر دیا گیا ہے جو وزیر آغا نے مختلف ادوار میں لکھے اور میرا جی کو پڑھنے والوں کیلئے فکروفن کے نئے دریچے وا کیے۔ طارق حبیب نے میرا جی شناسی میں ڈاکٹر وزیر آغا کے حصے کی نشاندہی کی ہے۔
شمارے کے دوسرے حصے میں میرا جی کی شخصیت اور شاعری پرمضامین لکھے گئے ہیں۔ جیلانی کامران، ساقی فاروقی، مظفر حنفی، عبداللہ جاوید، مختار ظفر، احمد ہمیش اور توحید احمد جیسے ناقدین کے مضامین میرا جی کی شخصیت کے ابعاد اور فن کی جہات کو سامنے لاتے ہیں۔
ساقی فاروقی کے نزدیک میرا جی نے آدمی کے ان دکھتے ہوئے زخموں اور زنگ خوردہ جنسی جذبوں کی تطہیر کا فرض ادا کیا جنھیں ہمارے دوسرے شاعروں نے دانستہ نظر انداز کر رکھا تھا۔
تیسرے حصے میں میرا جی کی تنقید اور ترجمہ نگاری کے حوالے سے ناقدین کے مضامین شامل کیے گئے ہیں جنھوں نے میرا جی کی تنقیدی بصیرت کو اجاگر کیا ہے۔
جہاں سید وقار عظیم اور ڈاکٹر نذر خلیق نے میرا جی کی تنقیدی حیثیت متعین کرتے ہوئے ان کی تنقید میں مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے وہاں معاصر تنقید کے اہم ترین نقاد ناصر عباس نیرّ کا مضمون یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس طرح میرا جی کی نظم نگاری کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح جدید نظم کی تنقید کے ضمن میں بھی ان کی خدمات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک میرا جی نے جدید اردو نظم کی اطلاقی تنقید کے اولین نمونے فراہم کیے۔ ان کے نزدیک میرا جی کی تنقید کا سرچشمہ مغرب ہے تاہم مغربی اثرات کے حوالے سے انھوں نے ایک نئی جہت اردو تنقید کو دی۔
نئے لکھنے والوں نے بھی میرا جی کو منفرد انداز میں سمجھا ہے اور اپنے مضامین کے ذریعے میرا جی کو معاصر تنقید کے نت نئے رجحانات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ نئے لکھنے والوں میں جہاں معید رشیدی میرا جی کی نظموں میں موجود ابہام کی مختلف صورتوں کو ایک نئے تناظر میں سامنے لایا ہے ۔ وہیں قاسم یعقوب نے میرا جی نظموں کی کرافٹ اور ان میں پائے جانیوالے ہیتی تنوعات کو نشان زد کیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے مظفر حنفی کی طرح نہ صرف میرا جی کی غزل کو غزل میں ہونیوالے ابتدائی لسانی تجربات کا پیش خیمہ قرار دیا ہے بل کہ انہیں اردو میں ہونے والی ابتدائی لسانی تشکیلات کا محرک بھی بتایا ہے۔ اسی طرح احتشام علی نے میرا جی کی نظموں کے متن کو ان کے عہدکے سیاق کے حوالے سے پرکھا ہے اور ان کی ابہام زدہ نظموں کے متن میں موجود نیم روشنی اور کثیر المعنویت کو تنقید کے نت نئے رجحانات کی رو سے دیکھنے پر اصرار کیا ہے۔ مجموعی طور پر اس حصے میں نئے لکھنے والوں کی بھرپور شرکت اس بات کی غماز ہے کہ میرا جی آج کے عہد میں بھی اتنے ہی جدید اور نئے ہیں جتنے قریباً پون صدی قبل تھے۔
آخر میں دیا گیا میرا جی کی شاعری اور نثر کا انتخاب حیدر قریشی کے حسن انتخاب اور پختہ شعری ذوق کی دلالت کرتا ہے۔
علاوہ ازیں میرا جی کی نظموں کے مختلف زبانوں میں ہوئے تراجم میرا جی کی عالمی سطح پر ہونے والی پذیرائی کے عکاس ہیں۔ اس ضمن میں انگریزی، جرمنی، ڈچ اور اٹالین جیسی ترقی یافتہ یورپی زبانوں کے ساتھ روسی، ترکی، فارسی اور عربی جیسی عظیم مشرقی زبانوں میں ہونیوالے تراجم میرا جی کی شعری شناخت کو ایک نئے عالمی تناظر میں سامنے لاتے ہیں۔

(مطبوعہ ماہنامہ ’’اخبارِ اردو‘‘اسلام آباد۔نومبر ۲۰۱۲ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید ادب جرمنی کے میرا جی نمبرپر مدثر بلال لاہور کاتبصرہ ۔مطبوعہ ماہنامہ ’’اخبارِ اردو‘‘اسلام آباد۔
شمارہ نومبر ۲۰۱۲ء
  ڈائریکٹ لنک کے لیے کلک کریں۔

 ..................................................................................................


ادب نامہ ۔ادبی صفحہ مطبوعہ روزنامہ صبح ایبٹ آباد۔مورخہ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۲ء

جدید ادب (جرمنی) کا ’’میرا جی نمبر‘‘
ایک منفرد ادبی دستاویز


عامر سہیل ...ایبٹ آباد


ہمارے اُردو ادب میں اچھی خاصی تعداد اُن لوگوں کی بھی ہے جو امریکہ،یورپ ، کینیڈا ،جاپان ،چین اور روس میں مستقل رہائش پذیر ہیں اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق اُردو کے فروغ میں مقدور بھر کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں اسی قبیلے کی ایک فعال شخصیت کا نام حیدر قریشی ہے۔جو کئی برسوں سے جرمنی میں مقیم ہیں اور اگر اُن کی علمی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تنِ تنہا جتنا کام کیا ہمارے ہاں اتنا کام بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر رہے۔ بلا مبالغہ حیدر قریشی اُن خوش نصیب اُدبا میں شمار ہوتے ہیں جن پر ادب کی دیوی پوری طرح مہربان ہے اسی وجہ سے وہ ادب کی ا ہم اور متنوع تخلیقی اصناف مثلاً افسانہ،ماہیا،انشائیہ، غزل،آزاد نظم،شخصی خاکہ اورسفر نامہ نگاری میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔اُن کی فکری جہات کا ایک مضبوط حوالہ تحقیق اور تنقید بھی ہے۔لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی،اس وقت انٹر نیٹ پر موجود دنیائے ادب کا خالص علمی ادبی اور تحقیقی جریدہ ’’جدید ادب‘‘ انہی کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔اس ادبی رسالے کے مندرجات اپنے معیار و وقار کے باعث تحقیقی کاموں میں بطور حوالہ جات استعمال ہو رہے ہیں۔حیدر قریشی کا تازہ ترین ادبی معرکہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ’’جدید ادب‘‘ کا ضخیم ’’میرا جی نمبر‘‘ شائع کیا ہے،چھے سو(۶۰۰) صفحات پر مشتمل اس تاریخی نمبر میں ہر وہ چیز موجود ہے جو شائقینِ ادب پڑھنا چاہتے ہیں۔
’’جدید ادب‘‘ کا میرا جی نمبر دس حصوں میں منقسم ہے(۱) گفتگو(۲) میرا جی شناسی اور وزیر آغا(۳) میرا جی کی شخصیت اور شاعری(۴) میرا جی کی تنقید اور ترجمہ نگاری(۵) میرا جی،نئے لکھنے والوں کی نظر میں(۶) میرا جی کی شاعری کا انتخاب(۷) میراجی کی نثر کا انتخاب (۸) میرا جی کو منظوم خراجِ محبت (۹)مختلف زبانوں میں میرا جی کی نظموں کے تراجم(۱۰) انتظاریہ۔
حیدر قریشی کا کہنا ہے: ’’ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگ اپنے معاشرے کے دوہرے معیار کے عین مطابق ظاہری اخلاقیات کے تحت آنے والے کسی عیب پر رُک کر رہ جاتے ہیں،اور پھر اُس تخلیق کار کا سارا ادبی کام پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ میرا جی بڑی حد تک اسی منفی رویے کا شکار ہوئے ہیں،رہی سہی کسر اُن دوستوں اور ’’کرم فرماؤں‘‘ نے پوری کردی جنہوں نے میرا جی کے فن پر توجہ دینے کی بجائے اُن کی شخصیت کو مزید افسانوی بنا دیا۔بے شک اُن کی شخصیت میں ایک انوکھی سحر انگیزی تھی،یاروں کی افسانہ طرازی نے میرا جی کے گرد ایسا ہالہ (جالا) بُن دیا کہ قاری اُن کی تخلیقات سے بالکل غافل ہو گیا۔میراجی کے دوستوں نے اس معاملے میں نادان دوستی کا اور’’ کرم فرماؤں‘‘ نے دشمنی کا
  کردار نبھایا ہے‘‘ ......جدید ادب،میرا جی نمبر،ص ۱۰
حیدر قریشی نے یہ بات کہہ کر فرضِ کفایہ ادا کیا ہے،ہمارے ہاں اکثر لکھنے والے اس منفی رویے کو مدت سے محسوس کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن اظہار کرنے میں کوتاہی بھی ہوتی رہی ہے۔منٹو نے میرا جی کے ساتھ جو تین گولے باندھے تھے بعد میں آنے والے ناقدین انہی گولوں کے ساتھ کھیلتے رہے اور یہ نہ سوچا کہ میرا جی اصلاً ایک تخلیق کار ہے نہ کہ شعبدہ باز۔ میں میرا جی پر لکھی جانے والی بیشتر تنقیدی تحریروں کو خاکہ نگاری کی ذیل میں رکھتا ہوں۔ ماضی میں ہونے والی مدرّسی تنقیدکو اگر دیکھا جائے تو حیدر قریشی کے موجودہ’’ میرا جی نمبر‘‘ کی نوعیت تقلیدی نہیں بلکہ اجتہادی نظر آتی ہے۔قاری اس نمبر کے توسط سے اُس میرا جی سے ملتا ہے جس کی نظموں میں آفاقی بصیرت اور تنقید میں تفہیمی شعریات کے باریک نکتے چمک رہے ہیں۔اُردو ادب کے پرانے نقادوں نے میراجی کے فکرو فن پر جو دبیز پردے ڈالے تھے اُن کا ذکر بے سود ہے۔البتہ ہمارے جدید اور نئے نقادوں نے کم وقت میں اُس منفی تنقیدی اثر کو زائل کر دیا ہے جس نے میرا جی کواساطیری روایتوں میں زندہ دفن کر دیا تھا۔خوش کُن امر یہ ہے کہ اس ’’میرا جی نمبر‘‘ میں وہ تمام اہم نام موجود ہیں جو ہمیں میرا جی سے نزدیک کر تے ہیں، چند مقالہ نگاروں کے نام یہ ہیں:ناصر عباس نیر،ڈاکٹر نذر خلیق،ڈاکٹر رشید امجد،معید رشیدی،قاسم یعقوب،مستبشرہ ادیب،ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی، شہناز خانم عابدی،ہاجرہ بانو،سید وقار عظیم،احتشام علی،مبشر احمد میر اور
شکیل کوکب۔
’’میرا جی نمبر‘‘ کا لائقِ توجہ حصہ وہ ہے جس میں اس عظیم اُردو شاعر کی شاعری کے انگریزی،جرمن،روسی،ڈچ،اطالوی،عربی،ترکی اور فارسی تراجم پیش کیے گئے ہیں ۔مترجمین کی اس صف میں ایم اے آر حبیب،گیتا پاٹیل،ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ،ڈاکٹر لد میلا وسئیلیو یا، ناصر نظامی،ماسیموبون، ہانی السعید،ڈاکٹر خلیق طوق ار،زیاد کاؤسی نژاد،ڈاکٹر انجم ضیاء الدین تاجی،ڈاکٹر روف پاریکھ،انتظار حسین اورڈاکٹر امجد پرویز شامل ہیں۔
میرا جی کی شاعری پر شامل تراجم نے اس نمبر کی افادیت بڑھا دی ہے۔میں نے جب فارسی اور انگریزی تراجم کو اصل متن کی روشنی میں پڑھا تو خوشی ہوئی کہ مترجمین نے ترجمے کا حق ادا کر دیا ہے،باقی زبانوں کے تراجم بھی یقیناًانہی صفات کے حامل ہو ں گے۔مترجمین کو اس بات کی اضافی داد ملنی چاہیے کہ اُنہوں نے جن نظموں کا انتخاب کیا وہ میرا جی کی نمایندہ نظمیں ہیں۔’’جدید ادب‘‘ بنیادی طور پر ایک بین الاقوامی ادبی جریدہ ہے لہذا اِن تراجم کی بدولت میرا جی کی  قرات کا دائرہ مزید وسیع ہو گا۔ میرا جی کی چالیس تخلیقات کا ترجمہ ایک رسالے میں آ جانا بذاتِ خود ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ ہے۔
اُردو ادب کے معدودے چند نقاد ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے ادبی سفر کے مختلف مراحل میں میرا جی پر توجہ مرکوز رکھی اور اپنے سنجیدہ مطالعات میں میرا جی کی اصل اہمیت کو روشناس کرایا، اس قبیلے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر رشید امجد سرِفہرست ہیں۔ حیدر قریشی چونکہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اسی لیے’’ جدید ادب‘‘ میں اُنہوں نے ’ میرا جی شناسی اور وزیر آغا ‘ کا الگ عنوان قائم کیا اور اُن مقالات کو یکجا کردیا جو میرا جی کی راست تفہیم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی حصے میں طارق حبیب نے ’’ میرا جی شناسی میں ڈاکٹر وزیر آغا کا حصہ‘‘ جیسا معلومات افزا مضمون لکھا اور تمام اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی۔’’جدید ادب کا میرا جی نمبر‘‘ انٹر نیٹ کی ویب سائیٹ پر بھی پڑھا جاسکتا ہے اس کے لیے
www.jadeedadab.com 
 تک جانا شرط ہے۔اسی سائیٹ پر ’’جدید ادب ‘‘ کے سابقہ شمارے بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔ اس خاص نمبر کی کتابی صورت ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،۳۱۰۸،وکیل سٹریٹ،کوچہ پنڈت،لال کنواں،دہلی..انڈیا
سے حاصل کی جاسکتی ہے۔مزید تفصیلات اور جانکاری کے لیے haider_qureshi2000@yahoo.com 
  پر رابطہ کیجیے۔

ادب نامہ ۔ادبی صفحہ مطبوعہ روزنامہ صبح ایبٹ آباد۔مورخہ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۲ء
.......................
  مطبوعہ روزنامہ نادیہ ٹائمز دہلی۔۹؍نومبر۲۰۱۲ء
 ....................
مطبوعہ روزنامہ آج پشاور۔۳۰؍نومبر۲۰۱۲ء
............................................
براہ راست لنک روزنامہ آج پشاور

http://dailyaaj.com.pk/epaper/index.php?city=peshawar&page=29&date=2012-11-30
.............................................................
 
میراجی نمبر ۱۰۰؍ویں سال گرہ ۔ ۔۔ ایک جائزہ

(جدید ادب جرمنی شمارہ : ۱۹ www.jadeedadab.com)
ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار.....شولاپور، انڈیا


http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Literature&article=906
..........................................................
 
حیدر قریشی عصری اردو ادب میں نام اور مقام رکھتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی فعال اور متحرک ادبی شخصیت سے میں اس لئے بھی متاثر ہوں کہ انہوں نے کئی ادیبوں اور شاعروں کی ادبی سوچ کی رہنمائی بھی کی ہے اور پذیرائی بھی۔ اس کے علاوہ ان کی تخلیقی تحقیقی اور تنقیدی کاوشیں قابل قدر ہیں۔ اردو ادب کو جدید ٹکنالوجی سے جوڑنے میں انہوں نے پہل کی ہے اور عالمی مسائل کو ادب میں جگہ دینے کی کوششوں میں بھی لگے رہتے ہیں۔ان کی سوچ اردو ادب کو تروتازہ ، تناور اوروقت کاہم قدم بنانے کی ہے۔ اس لئے انہوں نے ادبی صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ ’’جدید ادب ‘‘ ان کی فکری دنیا کا ترجما ن ہے۔ سرور اکادمی جرمنی کے زیر اہتمام بیک وقت کتابی صورت میں اور انٹرنیٹ پر دستیاب ہونے والا اردو کا یہ ادبی جریدہ برس ہا برس سے شائع ہو رہا ہے۔ ہر شمارہ خاص نمبر سے کم نہیں ہوتا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’جدید ادب ‘‘ میں کچھ ایسا بھی مواد ہوتا ہے جو کسی اور رسالے یا جریدے میں نہیں ہوتا۔ وقتاً فوقتاً اس کے خصوصی شمارے بھی شائع ہوتے ہیں۔ اس بار میراجی کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر حیدر قریشی نے ایک ضخیم نمبر شائع کر کے اپنے اعلیٰ ادبی ذوق کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ان کا یہ قدم نام نہاد اردو کے ہمدردوں اور اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ یہ میراجی جیسی ادب ساز ، ادب نواز شخصیت کو بھولے ہوئے ہیں۔ شعری ادب میں نیا موڑلانے والے شاعر کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ حیدرقریشی قابل صد تحسین ہیں کہ انہوں نے ’’جدید ادب‘‘ کا میرا جی نمبر شائع کر کے میراجی کی اہمیت کو نہ صرف یاد دلایا بلکہ میراجی کا آموختہ کروا کے ازسرِ نو ان کے شعری سرمائے پرغور و فکر کر نے کی دعوت دی ہے۔ 
جدید ادب ‘‘کا یہ نمبر ۶۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ میراجی کی شعر ی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔ ان کی افسانوی شخصیت کے رموز سے آشنا کراتا ہے۔ یہ سارا مواد حیدرقریشی کی تحقیق اور تلاش کا نتیجہ ہے۔ نمبر کے شروعات میں بعنوان ’’گفتگو‘‘ حیدرقریشی کے کچھ ابتدائی الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
’’میراجی ۲۵؍مئی میں پیدا ہوئے اور ۳؍نومبر ۱۹۴۹ ؁ء میں وفات پا گئے۔ تقریباً ۳۷ برس کی زندگی میں انہوں نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔ جدید نظم میں اپنے سب سے زیادہ اہم تخلیقی کردار کے ساتھ انہوں نے غزل اور گیت کی شعری دنیا پر بھی اپنے گہرے نقش ثبت کئے۔ شاعری کے کچھ ہلکے پھلکے دوسرے نمونے بھی پیش کیے۔ جو بظاہر ہلکے پھلکے لگتے ہیں۔ لیکن اردو شاعری پر ان کے بھی نمایاں نقش موجود ہیں۔دنیا کے مختلف خطوں کے اہم شاعروں کی شاعری کے منظوم ترجمے، نثری ترجمے، تنقیدی و تعارفی مضامین ایسے ایسے انوکھے کام کیے کہ اپنے تو اپنے ، غیر بھی ان کی تقلید کرتے دکھائی دیں۔ میراجی اپنی طبیعت کے لا اُبالی پن کے باعث اپنی بہت ساری شاعری کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ جتنا سرمایہ جمع ہو سکا،اس میں میراجی کی ذاتی کوشش سے کہیں زیادہ ان کے قریبی احباب اور بعض ناقدین و محققین کی نہایت مخلصانہ کاوشوں کو دخل رہا ہے۔‘‘
اس اقتباس سے میراجی کے شعری کردار اور شخصی لا اُبالی پن کی ہلکی سی جھلک سامنے آئی ہے۔ ’’گفتگو‘‘ میں حیدرقریشی نے میراجی کے متعلق اور بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ میراجی کے ہم عصر فیضؔ اور ن۔ م۔ راشدؔ کے متعلق بھی دل کو چھو لینے والی باتیں ہیں۔ اور یہ بھی کہ میراجی یکسر نظر انداز بھی نہیں کیے گئے۔ ان پرمضامین بھی لکھے گئے۔ یونیورسٹیوں میں تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے۔ لیکن ان پر کام ہنوز باقی ہے۔ حیدر قریشی نے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کچھ مطبوعہ مضامین اس نمبر میں کافی معیاری ہیں لیکن کچھ مضامین نئے قلم کاروں نے تحریر کیے ہیں جسے ایڈیٹ کر کے اس میں شائع کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ نمبر دیگر میراجی گوشوں اور نمبروں کے مقابل میں کافی اہم ہو گیا ہے۔ حیدرقریشی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اکیسویں صدی کے قلم کاروں کے میرا جی کے متعلق تاثرات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس نمبر میں کوائف میراجی کو ڈاکٹر جمیل جالبی نے مرتب کیا ہے۔ اس مضمون میں آپ نے میراجی کااصل نام، ولدیت ، قلمی و فرضی نام ، تعلیم ، لقب اور وہ ہند وپاک کے کن کن شہروں میں رہے۔ کیا کیا اور کہاں وفات پائی۔ سن اور مورخہ کے ساتھ ساری معلومات فراہم کی ہے۔ علاوہ ازیں ان کی تخلیقی فتوحات اور شاعری ، تنقید اور تراجم کی کتابوں کے نام اور مقام اشاعت وغیرہ بھی درج کیے ہیں۔ اسے مستند مانا جائے گا۔ ہانی السعید (مصر) نے میراجی کے متعلق تحقیقی تنقیدی اور تخلیقی کاموں کی فہرست پیش کی ہے۔ اس مضمون کے مطالعے سے پتہ چلا کہ رشید امجد نے ’’میراجی : شخصیت اور فن‘‘ عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے پی ۔ ایچ ڈی۔ کی ڈگری حاصل کی تھی اور میراجی پر ایم فِل اور ایم ۔ اے کے مفصل مقالے اردو کے علاوہ عربی میں بھی لکھے گئے ۔میرا جی پر ناول بھی لکھا گیا ۔ رسائل نے مختلف واقعات میں نمبر بھی شائع کیے۔ انگریزی زبان میں بھی ان پر کام ہوا۔
میراجی کے ہم عصر، ن۔ م۔راشد اوراخترالایمان نے بھی اعترافیہ مضامین لکھ کر میراجی کو داد دی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے میراجی پر کل پانچ مضامین اس نمبر میں شائع کیے گئے ہیں۔ جو میراجی کی شخصیت اور خاص طورپر فن کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ وزیرآغا کے یہ مضامین میراجی فہمی کے لئے کافی اہم ہیں۔ قاری اگر ان پانچوں مضامین کو پڑھ لے تو میرا جی کی شاعری کی اہمیت سے واقف ہو جائے گا۔ وزیر آغا کے ان مضامین کے بعد طارق حبیب کا ایک عمدہ مضمون ’’ میراجی شناسی میں ڈاکٹر وزیر آغا کا حصہ ‘‘پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مضامین پڑھنے کے بعد اس نمبر کا قاری دیگر مشاہیر ادب کے مضامین پڑھنے کے لیے بے چین ہو جاتاہے۔ اور جب وہ میراجی کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں پر جیلانی کامران ، ساقی فاروقی، منظر حنفی ، عبداللہ جاوید، مختار ظفر، احمد ہمیش اور توحید احمد جیسے مستند اور مقبول قلم کاروں کی تحریریں پڑھتا ہے تو میراجی کی ادبی شخصیت کے ہمہ رنگوں سے اسے واقفیت ہو جاتی ہے۔ ذہین قاری میراجی شناس ہو جاتاہے۔ یہ ترتیب حیدرقریشی کی صحافتی صلاحیت کا مظہر ہے کہ نمبر کا ایک ایک صفحہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتاہے۔ اس کی دلچسپی برقرار رکھتاہے۔
’’میراجی کی تنقید اور ترجمہ نگاری‘‘ کے باب میں سید وقار عظیم ، ناصر عباس نیر ، ڈاکٹر نذرخلیق، رشید امجد ، مبشر احمد میر وغیرہ کے مضامین کے مطالعے سے میراجی کی تخلیقی صلاحیتوں کے علاوہ ان میں جو تنقیدی شعور تھا اور فنِ ترجمہ نگاری میں جو انہیں مہارت تھی اس کی جانکاری ملتی ہے۔
’’میراجی : نئے لکھنے والوں کی نظر میں‘‘ اس باب میں ۱۲؍قلم کاروں کے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ یہ سب آج کے لکھنے والے ہیں۔ ان مضامین کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظر میں میراجی کا فن کیا ہے؟ یہ اس فن کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ ان قلم کاروں میں کسی نے میراجی کے ابہام اور جمالیات پر لکھا ہے تو کسی نے ان کی نظموں کی چیستانی صورت حال پر اظہار خیال کیا ہے۔ کسی نے میرا جی کو جنسی آسودگی کا شاعر قرار دیا ہے۔ تو کسی نے ان کی نظموں کو ان کے عہد کے تناظر میں دیکھا اور گفتگو کی ہے۔ اسی باب میں حیدر قریشی نے اپنی بات کہنے کی راہ نکالی ہے۔ انہوں نے دومضامین ’’ترقی پسند نظم نمبراور میراجی ‘‘ اور ’’میراجی شخصیت اور فن ‘‘ لکھ کر حق ادا کر دیا۔ یہ باب بھی قاری کے لیے سودمند ہے کہ اس میں طرح طرح سے میراجی کی شاعری کے رُخ دکھائے گئے ہیں۔ اور سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔
میرا جی کی شاعری کا انتخاب (۱۹گیت ، تیرہ غزلیں ، ۱۹ نظمیں) خوب تر ہیں۔ اس انتخاب سے میراجی کی شاعری کا ادبی کردار قاری کے سامنے آتا اور داد پاتاہے۔ اس نمبر میں میراجی کی نثر کا انتخاب بھی کیا گیا ہے۔ مختلف موضوعات پر چار مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ میراجی کی نثر میں روانی ، بیباکی اور ادبی سچائی کی خوبو نظر آتی ہے۔ اگر یہ نثر لکھتے اور زیادہ لکھتے تو یقیناًادب کے سرمایے میں اضافہ ہوتا۔ ان مضامین کو پڑھ کر قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس باب میں ایّوب خاور کا ’’میرا جی کے حوالے سے ایک خط‘‘ بھی شائع کیا گیا ہے۔ جو میراجی کے فن کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔اگلے باب میں میراجی کو منظوم خراج عقیدت پیش کی گئی ہے۔ یہ آج کے شعراء کا کلام ہے۔ اس کی ابتداء میں حیدر قریشی نے چند سطور رقم کی ہیں۔
’’میراجی کے بارے میں چند شعرائے کرام نے نظمیں بھیجی ہیں۔ جبکہ بیشتر نے میراجی کی کسی غزل کی زمین میں غزل کہنا مناسب سمجھا ہے۔ دونوں صورتیں ہی اپنی جگہ اچھی ہیں۔ آج کے شعراء کا میراجی کی شاعری کی طرف متوجہ ہونا میراجی کے قریب آنے اور ان کی ادبی تفہیم کے لیے نیک فال ثابت ہوگا‘‘۔(جدید ادب ، میراجی نمبر ۔ ص ۴۷۴)
یہاں نمونتاً کچھ عصرِ حاضر کے شعراء کی غزلوں کے مطلعے میراجی کی طرح و ز مین میں درج کیے جاتے ہیں۔
بدلا بدلا ہے ہر منظر ، گلی محلہ بھول گیا
یاد رہا وہ لیکن اس کا چہرہ مہرہ بھول گیا
(ندافاضلی ، انڈیا)
لب کُشائی کی اجازت دلِ آزاد نہیں
ضبط شیوہ ترا، زیبا تجھے فریاد نہیں
(ڈاکٹر پنہاں ، امریکہ)
روز و شب کا حصار ہے اپنا
کس لیے انتظار ہے اپنا
(شاد اب احسانی ، کراچی)
وہ مری دم بخودی ہے یا ہوا قاتل ہے
اس نئے شہر میں تو رُکتا ہوا سا دل ہے
(ڈاکٹر ریاض اکبر، آسٹریلیا)
زیست اپنی خوب سے بھی خوب تر ہو جائے گی
کیا خبر تھی چشم تر بھی معتبر ہو جائے گی
(شکیل عادِل ، مُلتان)
اس باب میں ایوب خاور ، ڈاکٹر رضیہ اسماعیل ، فہیم انور ، شہباز نیر کی میراجی پر کہی ہوئی آزاد اور پابند نظمیں بھی شامل ہیں۔ آخر میں میراجی کی نظم ’’اجنتا کے غار‘‘ سے متاثر ہو کر حیدرقریشی نے ایک نظم ’’اجنتا کے غار کی ایک تصویر‘‘ لکھی ہے۔ یہ ساری نظمیں سلیقے اور محبت سے کہی گئی خوبصورت نظمیں ہیں۔
آخری باب ’’مختلف زبانوں میں میراجی کی نظموں کے تراجم ‘‘ ہے۔ اس باب میں انگریزی ، جرمن ، روسی ، ڈچ ، اٹالین، عربی ، ترکی اور فارسی زبانوں میں میراجی کی نظموں کے تراجم شائع کئے گئے ہیں۔ ’’انتظاریہ ‘‘ کے تحت شمس الرحمٰن فاروقی کا مضمون ’’میرا جی سوبرس کی عمر میں ‘‘ میراجی کے شعری ہُنر پر پُر مغز مضمون ہے۔ جو کہ میراجی کو خراجِ محبت بھی ہے اور ار دو کے سنجیدہ قاری کے لیے گرانقدر تحفہ بھی۔ ’’جدید ادب ‘‘ کا میراجی نمبر ایک ادبی دستاویر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نمبر’’میراجی شناسی ‘‘ کے نئے نئے در کھولتا ہے۔ اس نمبر نے میراجی کی صد سالہ سالگرہ پر ان کی عمر اور بڑھا دی ہے۔ قابل مبارکباد ہیں،حیدرقریشی کہ ان کے ہاتھوں یہ تاریخی اور دستاویزی کام انجام پایا۔ *****
مطبوعہ روزنامہ ہمارا مقصد دہلی۔۸؍نومبر ۲۰۱۲ء

http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Literature&article=906
..............................................................

میرا جی… جنازہ کیسے اٹھا، سال کیسے منایا گیا

  انتظار حسین


ن م راشد کا سال، پھر فیض کا سال، پھر منٹو کا سال، تواتر کے ساتھ تینوں سال پاکستان میں بھی اور ہندوستان میں بھی شایان شان طریقے سے منائے گئے۔
منٹو کا سال ہنوز جاری ہے۔ بس اب آخری دموں پر ہے۔ نومبر کا مہینہ شروع ہے۔ آگے دسمبر ہے۔ راوی اس کے ساتھ منٹو کے سال کا تمت بالخیر لکھتا ہے۔
بس انھیں مہینوں میں کسی بھلے مانس کو اچانک خیال آیا کہ سنتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرا جی بھی تھا۔ اور اس کی پیدائش کا سو واں سال بھی اتفاق سے یہی 2012ہے۔ میرا جی کو بھی معمولی شے مت سمجھو۔ اردو شاعری میں جدیدیت کو صحیح معنوں میں متعارف کرانے والا اور نظم آزاد کو سب سے بڑھ کر قائم کرنے والا تو وہی ہے۔ کل اسی شہر لاہور میں میرا جی کے اثر میں شاعروں کا ایک پورا گروہ جدیدیت کے نام پر پروان چڑھا تھا۔ مختار صدیقی، قیوم نظر، یوسف ظفر، ضیاء جالندھری، مبارک احمد۔ اور ہاں اعجاز بٹالوی اور الطاف گوہر بھی اسی مکتبۂ فکر کے ہونہار فرزند تھے۔ حلقۂ ارباب ذوق اسی مکتبۂ فکر کی نمایندگی کرتا تھا۔ اور جب میرا جی اس دنیا سے سدھار گئے تو حلقہ کتنی باقاعدگی سے سال کے سال یوم میرا جی مناتا تھا اور میرا جی کے واسطے سے سال کے سال جے جے ونتی کا راگ کس پابندی سے ادیب سنا کرتے تھے۔ لیکن اس مکتبۂ فکر کے وہ شاعر ایک ایک کر کے سب دنیا سے سدھار چکے ہیں اور حلقہ بھی اب وہ حلقہ نہیں رہا ہے۔ وہ ہوتے تو میرا جی کے نام پر کچھ دال دلیا ہو جاتا۔
بہرحال نئے ادب کے نام لیوائوں کے حلقہ میں سے کسی کسی کو غیرت آئی اور اس نے میرا جی پر قلم اٹھایا۔ اچانک خبر ملی کہ لمز میں میرا جی کی یاد میں تقریب ہو رہی ہے۔ اس پر مبارک احمد کے فرزند ارجمند ایرج مبارک کی غیرت نے جوش کھایا اور وہ جو مہینے کے مہینے ان کی ادبی انجمن کا اجتماع کسمو پولیٹن کلب میں ہوتا ہے وہ اب کے ان کے والد مبارک احمد کے اولین گرو میرا جی سے منسوب کر دیا گیا۔ اگلے دن اتوار تھا۔ اور ہم نے دیکھا کہ ڈان (اخبار) نے اپنے ہفتہ وار ایڈیشن ’بُکس اینڈ آتھرز، کا اس ہفتے والا شمارہ، میرا جی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اور اسی ہنگام جرمنی سے رسالہ ’جدید ادب‘ کا ایک ضخیم خصوصی نمبر موصول ہوا۔ یہ میرا جی نمبر تھا۔ حیدر قریشی نے اسے مرتب کیا ہے اور بڑی کاوش سے چیزیں جمع کی ہیں۔
تو لیجیے آخر کے تئیں میرا جی کا سال بھی لشتم پشتم منا ہی لیا گیا۔ یہ بھی بہت غنیمت ہے۔ میرا جی کا بمبئی شہر میں انتقال ہوا تھا۔ شہر میں جہاں اس زمانے میں اردو کے ادیبوں کی بہت یلغار تھی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کا تو وہ ہیڈکوارٹر تھا وہاں میرا جی کے جنازے پر صرف پانچ آدمی تھے۔ اختر الایمان، مہندر ناتھ، مدھو سودن، اختر الایمان کے ہم زلف آنند بھوشن اور فلم ڈائریکٹر نجم نقوی۔ اس لحاظ سے میرا جی کے سال کا یہ نقشہ بہت اطمینان بخش ہے۔
ہاں لیجیے ہم میرا جی سال کی اختتامی تقریب کو تو بھول ہی چلے تھے۔ وہ بھی سن لیجیے۔ انھی برسوں میں فرانس کا ایک نوجوان دانشور ژولیاں وارد ہوا۔ ریڈ کراس سے وابستہ تھا۔ اس کے سارے لچھن وہی تھی جو فرانس کے دانشوروں اور شاعروں سے منسوب چلے آتے ہیں۔ اسے اِس دیس کی زبانوں اور ادبیات سے کچھ زیادہ ہی شغف ہو گیا۔ میرا جی مخصوص طور پر اس کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ ان کی شخصیت اور شاعری کو سونگھ کر وہ چونکا کہ یہاں سے تو کچھ اپنے شاعرِ اعظم بادلیئر کی مہک آ رہی ہے۔ اس نے میرا جی کی ذات کو مرکز بنا کر اردو میں ایک ناول لکھ ڈالا۔
ہم نے وہ ناول پڑھا اور اس سے کہا کہ برادر یہ ناول فرانسیسی رنگ ڈھنگ کا ہے جو اردو میں لکھا گیا ہے۔ میرا جی اس ناول کا مستحق تھا۔ اس نے بھی تو فرانس کے زوال پسند، شعری اسکول سے خاص طور پر بادیلیئر سے بہت رس اور چس حاصل کیا تھا۔ وہی بادیلیئر جس کا ذکر ہمارے ترقی پسند دانشور کس حقارت سے کیا کرتے تھے کہ وہ فرانس کا بیمار ذہن آتشک زدہ شاعر بادیلیئر۔ ہمارا یار عزیز مظفر علی سید اس بیماری کو فرانسیسی بیماری بتاتا تھا۔ اس عنوان سے اس نے ایک کہانی بھی لکھنی شروع کی تھی۔ مگر اس کے دوسرے کاموں کی طرح یہ کہانی بھی ادھوری رہ گئی۔ میرا جی نے اپنی جان پر کھیل کر اس کہانی کو مکمل کیا۔ پھر بمبئی میں تو اس پر دن بھاری ہی گزرنے تھے۔
میرا جی کے بمبئی جانے کی تقریب کیسے نکلی، یہ بھی سن لیجیے۔ میرا جی کی دھوم تو لاہور سے شروع ہوئی تھی۔ مولانا صلاح الدین احمد کے رسالہ ’ادبی دنیا‘ کو انھوں نے اپنی ادبی رزم گاہ بنایا ہوا تھا۔ مگر ادھر دلی میں پطرس بخاری آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل بنے بیٹھے تھے۔ اردو کے ادیبوں کو تخصیص کے ساتھ نوازا جا رہا تھا۔ اور لاہور کے ادیبوں کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ بس جیسے کسی بھلے وقت میں دلی کا ہر شاعر لکھنؤ کی طرف دوڑا چلا جا رہا تھا اسی طرح اب لاہور کا ہر ہونہار ادیب دلی کی طرف لپک رہا تھا۔ میرا جی بھی دلی کی طرف چل پڑے۔
خیر وہاں تو اس وقت ہر رنگ کا ادیب جمع تھا۔ میرا جی کو آسانی سے قدر دان میسر آ گئے۔ مگر جب ایک اور رو آئی اور ادیبوں نے فلموں کی چکا چوند میں دلی سے بمبئی کی طرف زقند لگائی تو میرا جی نے بھی پھر ادھر ہی کا رخ کیا۔
بمبئی میں میرا جی کا آغاز تو ایسا برا نہیں تھا۔ اختر الایمان جیسا بھلا مانس رفیق انھیں میسرآ گیا۔ ایک رسالہ ’خیال‘ کے نام سے نکالا۔ اختر الایمان ان کے شریک کار تھے۔ میرا جی کے قلم کی جولانیوں نے ’خیال‘ کو کیا سے کیا بنا دیا۔ مگر تابکے۔ پٹری سے اتری اس ذہین و فطین شخصیت نے کیا کیا روگ پال رکھے تھے۔ جب امراض نے زور پکڑا تو اختر الایمان انھیں اپنے گھر لے آئے۔ اس کی ساری تفصیل اختر الایمان نے اس خط میں لکھی ہے جو انھوں نے رشید امجد کے نام لکھا تھا اور جو اب حیدر قریشی کے مرتب کردہ میرا جی نمبر میں شایع ہوا ہے۔
میرا جی کی حالت بگڑتی ہی چلی گئی۔ جب حالت زیادہ دگرگوں ہوئی تو انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اسپتال میں ان سے ایک ملاقات اعجاز بٹالوی نے کی تھی۔ اس کا احوال بھی سن لیجیے۔ لندن جاتے ہوئے بمبئی میں پڑائو کیا۔ میرا جی سے ملنے اسپتال گئے تو کیا دیکھا۔
’’میرا جی کے پلنگ کے ساتھ دوسرے مریض کو الگ کرنے کے لیے ایک اسکرین لگا دی گئی تھی۔ میں نے دیکھا، میرا جی کچھ پریشان ہیں۔ اتنے میں اسکرین کی دوسری طرف سے ایک دلدوز چیخ بلند ہوئی۔ میرا جی کا ہمسایہ دنیا سے جا چکا تھا۔ میرا جی نے مجھ سے کہا ’’وہ میری مالا اٹھا دیجیے میں عبادت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
انھوں نے آنکھیں بند کر لیں اور ان کی مالا کے منکے ان کی انگلیوں سے پھسلنے لگے۔ چند منٹ کے بعد انھوں نے آنکھیں کھولیں اور مالا کو ایک ’’طرف رکھ دیا۔‘‘
دوسرا منظر جو انھوں نے دیکھا وہ یوں ہے کہ ایک پادری دوسرے مریضوں سے گزر کر میرا جی کے پاس آن پہنچا ’’اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت ڈوری تھی جس کے سرے پر مر مر کا بنا ہوا مسیح مصلوب کا ایک خوبصورت مجسمہ لٹک رہا تھا۔ اس نے قریب ہو کر میرا جی کے سامنے یہ مجسمہ لہرایا۔ میرا جی نے کہا ’’ان کو میں ہمیشہ سے جانتا ہوں۔ مگر آپ سے ملاقات نہیں۔‘‘
پادری نے کہا ’’آپ یسوع کی برکت سے ٹھیک ہو جائیں گے۔ میرا جی بولے ’’آپ جب پچھلے ہفتے یہاں آئے تھے تو آپ نے میرے سامنے والے مریض سے یہی کہا تھا۔ وہ آج ٹھیک ہو گیا ہے۔‘‘
پادری صاحب کچھ پریشان ہوئے۔ مسکرا کر میرا جی کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’آپ اسپتال میں کب سے ہیں۔‘‘
جواب دیا ’’روز ازل سے یہیں ہوں۔‘‘
اعجاز بٹالوی کی اس ملاقات کے تھوڑے ہی دن بعد میرا جی آخر جان ہار گئے۔ اب اختر الایمان کی سنیے ’’میرا جی اپنے زمانے کا بڑا نام تھا۔ میں نے بمبئی کے تمام ادیبوں کو اطلاع بھجوائی۔ اخبار میں بھی چھپوایا۔ مگر کوئی ادیب نہیں آیا۔ جنازے کے ساتھ صرف پانچ آدمی تھے۔‘‘ وہی جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی
ایسے پراگندہ خاطر پراگندہ دل کا جنازہ ایسے ہی اٹھنا تھا اور سال بھی اسی رنگ سے منایا جانا تھا۔

مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس،لاہور

9.11.2012  


................................................................

انتظار حسین کے کالم کے حوالے سے دو وضاحتیں
  انتظار حسین کے اس کالم کے حوالے سے دو وضاحتیں
 کرناضروری ہیں۔

’’جدید ادب‘‘کا میرا جی نمبرجولائی ۲۰۱۲ء میں چھپ گیا تھا اور اگست،ستمبر تک پاکستان کے احباب تک پہنچ چکا تھا۔انتظار حسین کو بھی تب ہی رسالہ مل چکا تھا۔اب اس کالم میں انہوں نے ڈیلی ڈان 4 نومبر2012ء  میں پانچ مضامین کے ایک ساتھ چھپنے کو اولیت دی ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ یہ کام پہلے ہوا ہے اور جدید ادب کا میرا جی نمبر بعد میں آیا ہے۔ افسوس دانستہ یا نادانستہ دیا گیا یہ تاثر خلافِ واقعہ ہے۔جدید ادب کے میرا جی نمبر کے اعتراف میں کسی کو انقباض ہے تو ویسے ہی اسے نظر انداز کر دیں لیکن حقائق کو مسخ نہ کریں۔
........................
میرا جی کی موت کا انتظار حسین جیسے بظاہر مرنجاں مرنج ادیب نے جس طرح ذکر کیا ہے،یہ بھی ان کے عمومی مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔میرا جی کی تدفین پر زیادہ لوگوں کا نہ آنا محض اس وجہ سے تھا کہ تقسیم بر صغیر کے معاََبعد کا زمانہ تھا،میرا جی کو پاکستانی مان کر اور بھارت کی تب کی دہشت زدہ سیاسی فضا کی وجہ سے لوگوں نے آخری رسومات میں شرکت سے گریز کیا۔اس بات کو اچھے پیرائے میں بیان کیا جا سکتا تھا۔تاہم اگر اسی حوالے سے ن م راشد اور مجید امجد کا ذکر کیا جائے تو کیا انتظار حسین اتنی ہی بے حسی اور سفاکی کے ساتھ ان کے انجام کا ذکر کریں گے؟
ن م راشد کی میت کو جلایا گیا،کیا انتظار حسین اسے کریا کرم کہیں گے؟۔۔۔اسی طرح مجید امجد کی لاش کو گندگی کے ٹرک پر ڈال کر ان کے گاؤں بھیجا گیا۔کیا اس بے رحمی کا اتنا ہی مزہ لے کر ذکر کریں گے جس طرح انہوں نے میرا جی کی موت کا ذکر کیا ہے،جبکہ میرا جی کی آخری رسومات ان ظاہری باتوں کے حوالے سے راشد اور مجید امجد کے مقابلہ میں کہیں بہتر طور پرادا ہوئیں۔یہاں مقصد راشد یا مجید امجدکی ا موات اوران کے ساتھ روا رکھے جانے والے آخری سلوک پر بحث کرنا نہیں ہے،یہ ہمارے معاشرے کی بہت ساری مکروہات کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔مقصد صرف اتنا ہے کہ میرا جی کی موت کو اتنی سفاکی سے بیان نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر انتظار حسین جیسے تہذیب کے نمائندہ ادیب بھی اپنی برادری کے اہم لوگوں کا اس طرح ذکر کرنے لگے تو پھر اپنی موجودہ تہذیب کی حالتِ زار کا رونا کیسا؟

حیدر قریشی

...............................................................

Samstag, 22. September 2012

جدید ادب جرمنی کا میرا جی نمبر



جدید ادب جرمنی کا میرا جی نمبر
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

.....................................................................

ارشد خالد کی جانب سے ریلیز کی گئی خبرایک ادبی فورم پر

پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
https://groups.google.com/forum/?hl=ur&fromgroups=#!topic/adabdotcom/YZ6sRnDyF7o
............................................... 
ارشد خالد کی جانب سے ریلیز کی گئی خبر
مطبوعہ روزنامہ آج پشاور   
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: 
Jadeed Adab – Mira Ji Number
By Dr Amjad Parvez
DAILY TIMES LAHORE

http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012\09\23\story_23-9-2012_pg9_4

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
میرا جی کے صرف چار اشعار

 جن کی تقلید نے ظفر اقبال کو شاعر بنا دیا۔لیکن ظفر اقبال نے جہاں سے فیض پایا،اس کا نیازمندی کے ساتھ اقرار کرنے کی بجائے اسی کے خلاف لکھنا ضروری سمجھا۔
.......................................................

........................................................
ڈاکٹر مظفر حنفی کے مضمون ’’میرا جی:شخصیت کے ابعاد اور فن کی جہات‘‘ سے اقتباس،بحوالہ جدید ادب جرمنی میرا جی نمبر ۔

....................... 
’’میرا جی کے متفرق اشعار پڑھتے ہوئے مجھے بے ساختہ

   ظفر اقبال یاد آگئے۔تین چار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
 

ملائیں چار میں گر دو تو بن جائیں گے چھ پل میں
نکل جائیں جو چھ سے دو تو باقی چار رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پوچھتے ہو ہم سے یہ ہے حالتِ جگر
پی اس قدر کہ کٹ ہی گیا آلتِ جگر
۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے کا رنگ زرد، مئے ناب کا بھی زرد
یہ رنگ ہیں کہ رنگ ہے پیشاب کا بھی زرد
۔۔۔۔۔۔۔۔
دن میں وظیفہ اس کا کئی بار کیجیے
اپنے جگر کے فعل کو بیدار کیجیے

 
یعنی زبان کی توڑ پھوڑ اور مضامین کی اکھاڑ پچھاڑ کا جو کام ظفر اقبال آج کر رہے ہیں،اُس کا آغاز میرا جی نے ۷۰۔۸۰ برس پہلے کر دیا تھا۔دیکھیں وہ میرا جی کے اس فیضان کا اعتراف کب کرتے ہیں۔
‘‘
.........................................................................................
میرا جی کے چار اشعار کے فیض نے ظفر اقبال جیسا شاعر بنا دیا

لیکن ظفر اقبال اپنی اصل اور بنیاد کا اقرار کرنے سے گریزاں
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
.......................................
.........................................................
  حیدر قریشی کی جانب سے میاں عامر محمودچیف ایڈیٹر روزنامہ دنیا کے نام خط
محترمی میاں عامر محمود صاحب
سلام مسنون
روزنامہ دنیا لاہور ایک نیا اخبار ہے۔اس کی اٹھان اچھی ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی پنجاب کے مقبول اخبارات میں اس کا نام شامل ہو گا۔۱۷ اور ۱۸ ستمبر کے اخبار میں ظفر اقبال صاحب کے کالموں میں میرا جی نمبر پر تبصرہ کرتے ہوئے حقائق کو بری مسخ کیا گیا ہے اور اس بات کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے ظفر اقبال صاحب کی اپنی شاعری کے بارے میں ایک انکشاف سامنے آیا ہے۔میں اپنی طرف سے ایک وضاحتی مضمون بھیج رہا ہوں۔امید کرتا ہوں کہ روزنامہ دنیا میں تصویر کے دونوں رُخ سامنے لانے کا صحت مندانہ رویہ فروغ پائے گا۔دونوں رُخ سامنے آجائیں تو قارئین خود بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔یقین کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو روزنامہ دنیا میں شائع فرمائیں گے۔
والسلام
نیک تمناؤں کے ساتھ
حیدر قریشی
مدیر جدید ادب جرمنی
20.09.2012

-------------------------------------------------------------------------------
حیدر قریشی کی جانب سے ظفر اقبال کا جواب
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
..............................................................
ظفر اقبال کی طرف سے پھر کج بحثی
 ظفر اقبال نے ہر غیر متعلقہ بات کر لی لیکن میرا جی کے
 ان اشعار کی بابت کچھ نہیں کہا جن سے فیض پاکرظفر اقبال شاعر بنے۔
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
..........................................................
حیدر قریشی کی طرف سے پھر ایک جواب

میرا یہ مختصر سا جواب ۲۲ ستمبر ۲۰۱۲ء کو صبح سات بج کر بیس منٹ پر ای میل سے بھیج دیا گیا تھا،لیکن کسی وجہ سے اسے شائع نہیں کیا گیا۔صرف ریکارڈ کی تکمیل کے لیے وہ جواب یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔


ذکرِ میرا جی اور ظفر اقبال صاحب کا شکریہ

  حیدر قریشی 
 مدیر جدید ادب جرمنی

اکیس ستمبر ۲۰۱۲ء کے روزنامہ دنیا میں میری وضاحت کی اشاعت پر ظفر اقبال صاحب نے اپنے آج بائیس ستمبر کے کالم میں اپنے مزید خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ان میں سے بعض باتیں وہی ہیں جو وہ جدید ادب کے میرا جی نمبر پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر متعلق طور پر چھیڑ چکے تھے،اب ذرا ان کا دامن مزید شخصیات کے ذکر سے وسیع کر دیا ہے۔میں نے پہلے بھی انہیں غیر متعلقہ سمجھ کر نظر انداز کیا تھا اور اب بھی میرے لیے ان باتوں میں الجھنا مناسب نہیں۔ان کی یہ بات میں نے دلچسپی سے پڑھی کہ ان کی کتابوں کے دیباچے وغیرہ ان کے ناشرین نے اپنی مجبوری کے تحت لکھے یا لکھوائے۔ میں مان لیتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی نقادسے اپنے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے نہیں کہا ہوگا۔یہ ادب میں ولیوں والا ،صوفیوں والا رویہ ہے۔صوفیائے کرام وسیع المشرب ہوتے ہیں اور چھوٹی موٹی باتوں کو ہی نہیں بڑی بڑی باتوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ظفر اقبال صاحب بھی ادبی دنیا میں چھوٹی موٹی باتوں کو نظر انداز کر دیا کریں۔میرا جی کے چار متفرق اشعار بھی ایسی ہی چھوٹی سی بات ہیں۔(اگرچہ ان کا جادوحیران کن ہے)اس کے لیے میرا جی سے بھی درگزر سے کام لیں اور مظفر حنفی صاحب کے معاملہ میں بھی دل میلا نہیں کریں۔جہاں تک میرا تعلق ہے، سوائے اس کے کہ کسی کے ساتھ غیر ضروری طور پر کوئی شدید جنگ چھڑ جائے، میں ادبی اختلاف رائے کے باوجود اپنے سینئرزکا احترام کرتا ہوں۔ظفر اقبال صاحب میرے سینئر ہیں ،میں ان کا بھی احترام کرتا ہوں۔میرے ہاں جتنا میرا جی کا اثر ہے،اس سے ملتاجلتا ظفر اقبال صاحب کا اثر بھی ہے اور یہ اثر الگ الگ ہو کر بھی مجھے ایک سا لگنے لگاہے۔اسی تناظر میں مجھے مظفر حنفی بھی اچھے لگتے ہیں۔سو ظفر اقبال صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اپنی صوفیانہ بے نیازی کے باوجودمجھے بھی اور میرا جی کو بھی کسی رنگ میں یاد رکھا۔اللہ انہیں اس کا اجرعطا فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
 روزنامہ دنیا کی ویب سائٹ پر
اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ روزنامہ دنیا کی ویب سائٹ پر جو صاحب بھی تشریف فرما ہیں،وہ میرے تاثرات کو فوری طور پر ڈیلیٹ کر رہے ہیں۔ایسا بار بار ہو رہا ہے۔میری دانست میں وہ اپنے اخبار کے نادان دوست ہیں۔ ادارہ دنیا کا موقف دونوں طرف کی بات سننے کا ہے لیکن اس وقت جو کوئی بھی دنیا کی ویب سائٹ کو سنبھالے ہوئے ہیں،وہ اپنے اخبار کی پالیسی کے خلاف اقدام کر رہے ہیں۔
حیدر قریشی
۲۲ ستمبر ۲۰۱۲ء
......................

 میری طرف سے صرف یہ اقتباس دیا گیا اور ہر بار ڈیلیٹ کر دیاگیا

ڈاکٹر مظفر حنفی کے مضمون ’’میرا جی:شخصیت کے ابعاد اور فن کی جہات‘‘ سے اقتباس،بحوالہ جدید ادب جرمنی میرا جی نمبر ۔
....................... 
’’میرا جی کے متفرق اشعار پڑھتے ہوئے مجھے بے ساختہ

   ظفر اقبال یاد آگئے۔تین چار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
 

ملائیں چار میں گر دو تو بن جائیں گے چھ پل میں
نکل جائیں جو چھ سے دو تو باقی چار رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پوچھتے ہو ہم سے یہ ہے حالتِ جگر
پی اس قدر کہ کٹ ہی گیا آلتِ جگر
۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے کا رنگ زرد، مئے ناب کا بھی زرد
یہ رنگ ہیں کہ رنگ ہے پیشاب کا بھی زرد
۔۔۔۔۔۔۔۔
دن میں وظیفہ اس کا کئی بار کیجیے
اپنے جگر کے فعل کو بیدار کیجیے

 
یعنی زبان کی توڑ پھوڑ اور مضامین کی اکھاڑ پچھاڑ کا جو کام ظفر اقبال آج کر رہے ہیں،اُس کا آغاز میرا جی نے ۷۰۔۸۰ برس پہلے کر دیا تھا۔دیکھیں وہ میرا جی کے اس فیضان کا اعتراف کب کرتے ہیں۔
‘‘
.........................................................................................


Sonntag, 24. Juli 2011

میرا جی،شخصیت اور فن

حیدر قریشی(جرمنی)

میرا جی،شخصیت اور فن
(ڈاکٹر رشید امجد کا پی ایچ ڈی کا مقالہ)

ادبی دنیا میں آنے سے پہلے اپنی ٹین ایج میں میرے پسندیدہ شاعر وہی شعراء تھے جو ٹین ایجرز کے سدا بہار شاعر ہیں۔لیکن انہیں شاعروں میں ،اُن شاعروں سے یکسر مختلف میراجی بھی شامل تھے جنہیں میں نے ٹین ایج میں ہی حیرت کے ساتھ پڑھا تھا۔ان کا شعری مجموعہ’’ تین رنگ‘‘ مجھے کہیں سے ملا تھا اور میں نے اس کی نظمیں،گیت اور غزلیں اسی عمر میں پڑھ لی تھیں۔یہ غالباََ ۱۹۶۹ء کا سال تھا۔(عمر ۱۷ سال)جب میں نے میرا جی کو کچھ سمجھا ،کچھ نہیں سمجھا مگر کوئی انوکھا سا شعری ذائقہ ضرور محسوس کیا۔تب جہاں میں نوکری کرتا تھا، اس ملز میں لیبارٹری کے دوستوں کا بیت بازی کا مقابلہ ہوا تھا اور اس میں سب سے زیادہ میرا جی کے شعر پڑھے گئے ۔بیت بازی کا فیصلہ میرا جی کی ایک غزل نے کرایا۔

گناہوں سے نشوونما پا گیا دل 
درِ پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل
لام سے شروع ہونے والے اشعار ختم ہو گئے اور میرا جی کی اس غزل کے شعر ابھی باقی تھے۔اسی کتاب میں ایک نظم غالباََ ’’خلا ‘‘(۱)کے عنوان سے تھی۔
خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہے
اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے
ٹین ایج،خام ذہن اور ایسی بات۔۔۔اس کے بعد میرا جی کو مربوط طور پر پڑھنے کا موقعہ تو نہیں ملا لیکن ادبی رسائل کے ذریعے کافی کچھ پڑھنے کو ملتا رہا، تعارف بڑھتا رہا۔یوں جدید نظم کے حوالے سے ان کی اہمیت کا احساس بھی ہوتا گیا۔
میرا جی پر اب تک کافی کام ہو چکا ہے۔ایم اے اردو کا تحقیقی مقالہ انوار انجم نے لکھا ،متعدد اہم ادبی رسائل نے میرا جی سے متعلق دستیاب یادگار مواد کو محفوظ کیا۔اور اب زیرِ نظر کتاب ڈاکٹر رشید امجد کا تحقیقی مقالہ ہے جس پر انہیں پی ایچ دی کی ڈگری دی گئی ہے۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اس مقالہ میں ان کے نگران تھے۔میں سمجھتا ہوں جدید نظم میں میرا جی جتنی اہم شخصیت ہیں ،رشید امجد جدید افسانے میں لگ بھگ اتنی ہی اہم شخصیت ہیں۔لگ بھگ اس لیے لکھا ہے کہ ہلکے سے تقدم و تاخر کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے باوجودرشید امجد کا جدید افسانے کے حوالے سے جو کام ہے وہ میرا جی کے جدید نظم والے کام جتنا ہی اہم ہے۔شاید اسی لیے رشید امجد نے نہ صرف دستیاب معلومات سے استفادہ کیا ہے بلکہ میرا جی کو جدید ادب کے باطنی حوالوں سے بھی عمدگی سے دریافت کیا ہے۔
اس مقالہ کے سات ابواب ہیں۔پہلا باب خاندانی،سوانحی اور شخصی حالات پر مشتمل ہے اور یہ باب اس مقالہ کا اہم ترین حصہ ہے۔اس باب میں میرا جی کے بارے میں جو اہم معلومات یکجا ہوئی ہے اسے اختصار کے ساتھ بیان کیے دیتا ہوں۔
میرا جی کا اصل نام ثناء اللہ ڈار تھا۔۲۵؍مئی ۱۹۱۲ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔(ایک روایت میں گجرات بھی مذکور ہے)ان کے والد منشی محمد مہتاب الدین کی پہلی بیوی فوت ہوئیں تو انہوں نے میرا جی کی والدہ سے شادی کر لی جو عمر میں منشی صاحب سے بہت چھوٹی تھیں۔عمروں کے اس تفاوت نے بھی میرا جی کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ان کے والد کو ریلوے کی ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں میں قیام کرنا پڑا۔گجرات کا ٹھیا واڑ سے لے کر بوستان ، بلوچستان تک انہوں نے سکھر،جیکب آباد،ڈھابے جی،جیسے مقامات گھوم لیے۔بنگال کے حسن کے جادو نے انہیں لاہور میں اپنا اسیر کیا ۔۱۹۳۲ء میں انھوں نے ایک بنگالی لڑکی میرا سین کو دیکھا اور پھر اسی کے ہو رہے۔یہ سراسر داخلی نوعیت کا یکطرفہ عشق تھا۔ میرا سین کو اس کی کلاس فیلوز میرا جی کہتی تھیں،چنانچہ ثناء اللہ ڈار نے اپنا نام میرا جی رکھ لیا اور رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی کی زندہ مثال بن گئے۔اس عشق میں میٹرک پاس نہ کر سکے۔ہومیو پیتھک ڈاکٹری سیکھ لی لیکن نہ اس کی بنیاد پر ڈاکٹر کہلوانا مناسب سمجھا اور نہ ہی اس مہارت سے کوئی تجارتی فائدہ اٹھایا ۔ بال بڑھا لیے، ملنگوں جیسا حلیہ اختیار کر لیا۔پھر اس میں تدریجاََ ترقی کرتے گئے،لوہے کے تین گولے،گلے کی مالا،لمبا اور بھاری بھر کم اوور کوٹ،بغیر استر کے پتلون کی جیبیں اور ہاتھ عام طور پر جیب کے اندر،بے تحاشہ شراب نوشی،سماجی ذمہ داریوں سے یکسر بے گانگی۔۔۔یہ سارے نشان میرا جی کی ظاہری شخصیت کی پہچان بنتے گئے۔بقول محمد حسن عسکری :
’’جب انہوں نے دیکھا کہ دوست انہیں افسانہ بنا دینا چاہتے ہیں تو بے تامل افسانہ بن گئے،اس کے بعد ان کی ساری عمر اس افسانے کو نبھاتے گزری‘‘۔
میرا سین سے میرا جی کی پہلی ملاقات یا پہلی باردیکھنا ۲۰ مارچ ۱۹۳۲ء کا واقعہ ہے۔وہ اپنی تعلیم مکمل کرنا تو کیا میٹرک بھی نہ کر سکے۔اس کے باوجود انگریزی زبان اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔جدید نظم کا تجربہ انگریزی ادب سے ہی آیا تھا میرا جی نے اسے ہندوستان کی مقامیت میں گوندھ کر اردو کی مستقل اور جاندار صنف بنادیا۔ان کے کئے ہوئے سارے تراجم بھی انگریزی سے ہوئے ہیں۔پھر ان کی تنقیدی بصیرت میں مغربی علوم سے مثبت استفادہ کے ساتھ اسے اپنے ادب کے تناظر میں دیکھنے کا رویہ بھی موجود ہے۔یوں میٹرک فیل میرا جی ،جو ظاہری زندگی میں ایک ملنگ سا شاعر ہے ادب کے معاملہ میں بہت ذمہ دار دکھائی دیتا ہے۔۲۹؍اپریل ۱۹۳۶ء کو بزم داستاں گویاں کے نام سے لاہور میں ایک ادبی تنظیم قائم ہوئی جو بعد میں حلقہ ارباب ذوق بن گئی۔۲۵؍اگست ۱۹۴۰ء کو میرا جی پہلی مرتبہ حلقہ کے اجلاس میں شریک ہوئے،ان کی آمد نے حلقہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔
میرا جی کے والد نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے مولانا صلاح الدین احمد کے ساتھ مل کر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کھولی ۔لیکن ایجنسی گھاٹے کا شکار ہوئی۔نوبت مقدمہ بازی تک پہنچی۔ایسی فضا میں میرا جی نے مولانا صلاح الدین احمد کے ادبی رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘میں شمولیت اختیار کر لی۔والد نے برا منایا تو انہیں سمجھا بجھا دیا۔ ’’ادبی دنیا‘‘ میں ان کی شمولیت سے جدید ادبی رویوں کو فروغ ملنے لگا۔ ۱۹۴۲ء میں ’’ادبی دنیا‘‘ کو چھوڑ کردہلی گئے۔جون ۱۹۴۷ء کو بمبئی گئے لیکن اپنے مخصوص مزاج کے باعث دنیا داری میں کہیں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔لاہور کے زمانہ سے لے کر دہلی کے دور تک طوائفوں کے پاس بھی جاتے رہے اور لاہور کی ایک طوائف سے آتشک کا موذی تحفہ لے کر آئے۔دہلی میں ریڈیو کی ملازمت کے دوران دو اناؤنسرز کو کچھ پسند کرنے لگے لیکن ایک اناؤنسر کی پھٹکار کے بعد میرا سین کی مستی میں واپس چلے گئے۔بمبئی کی فلمی دنیا میں پاؤں جمانے کی کوشش کی۔مگر کامیاب نہ ہوئے۔اس دوران ماں سے ملنے کی خواہش لاہور جانے پر اکساتی رہی ،لاہور تو نہ جا سکے البتہ ’’سمندر کا بلاوا‘‘ جیسی خوبصورت نظم تخلیق ہو گئی۔ایک بار والدہ سے ملنے کے لیے معقول رقم جمع کر لی تھی کہ ایک تانگے والے نے اپنا مسئلہ بتایا کہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں ہو رہی۔میرا جی نے ساری رقم اٹھا کر تانگے والے کو دے دی اور والدہ سے ملنے کا پروگرام موخرکر دیا جوتادمِ مرگ موخر ہی رہا۔ایک اور موقعہ پر ایک ترقی پسند شاعرکی درد بھری داستان سن کر ساری جمع پونجی اس کے حوالے کر دی۔بمبئی میں سخت غربت،بھیک مانگنے جیسی حالت ،دن میں چالیس سے پچاس تک پان کھانے کی عادت، کثرت شراب نوشی ،استمنا بالیداورآتشک کے نتیجہ میں ۳؍نومبر ۱۹۴۹ء کو میرا جی بمبئی کے ایک ہسپتال میں ساڑھے ۳۷ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔الطاف گوہر کی تحریر کے مطابق ’’مرنے سے چند دن پہلے جب ایک پادری نے ان سے پوچھا ۔۔’آپ یہاں کب سے ہیں ؟ ‘
تو میرا جی نے بڑی متانت سے کہا۔۔’ازل سے‘۔‘‘
اخترالایمان نے بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ چونکہ تقسیم بر صغیر کے معاََ بعد کا زمانہ تھا ۔اس لیے میرا جی جیسا شاعرجو زندگی بھر قدیم ہندوستان کی رُوح کا پرستاررہا ،اس کا مسلمان اور پاکستانی ہونا تعصب کا موجب بن گیا۔اخترالایمان نے خود اخبارات کے دفاتر میں فون کر کے خبر دی۔دوسرے دن خود جا کر میرا جی کی وفات کی خبر دی لیکن کسی اخبار نے ان کی وفات کی خبر چھاپنا گوارا نہیں کیا۔میرا جی کو بمبئی کے میرن لائن قبرستان میں دفن کیا گیا۔جنازے میں صرف پانچ افراد شامل ہوئے۔اخترالایمان،نجم نقوی،مدھو سودن،مہندرناتھ اور آنند بھوشن۔
میرا جی کی داستان کے اس مقام پر ڈاکٹررشید امجد نے میرا جی کی ایک غزل کا ایک مصرعہ بڑا ہی برجستہ درج کیا ہے ؂ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
میرا جی اپنی زندگی کے مختصر دور میں دہلی،لاہور،بمبئی،پونہ تک جن مختلف ادیبوں کے کسی نہ کسی رنگ میں قریب رہے ، ان میں سے چند نام یہ ہیں۔مولانا صلاح الدین احمد،شاہد احمد دہلوی،منٹو،یوسف ظفر،قیوم نظر، الطاف گوہر،مختار صدیقی،ن۔م۔راشد،اخترالایمان،راجہ مہدی علی خان،کرشن چندر،احمد بشیر،محمود نظامی،و دیگر۔
مقالہ کے دوسرے باب میں میرا جی کی نظم نگاری پر بات کی گئی ہے۔تیسرے باب میں میرا جی کے گیتوں اور غزلوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔چوتھے باب میں ان کی تنقید کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔پانچویں باب میں میرا جی کے تراجم کا احوال بیان کیا گیا ہے ۔چھٹے باب میں میرا جی کی نثر کا ذکر کیا گیا ہے۔یہاں کم از کم مجھے پہلی بار علم ہوا کہ اپنی عام ظاہری ہیئت کے بر عکس انہوں نے حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے اور سماجی موضوعات پر بھی بعض فکر انگیز مضامین تحریر کیے تھے اور علم فلکیات میں بھی انہیں دلچسپی تھی ۔ساتویں باب میں مذکورہ تمام حوالوں سے میرا جی کے ادبی مقام کا تعین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کی ذاتی زندگی سے لے کر ان کے ادبی مقام تک مقالہ لکھتے ہوئے انتہائی محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے۔تحقیق کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔مختلف اور متضاد آراء کو بھی یکجا کیا ہے اور اپنی طرف سے اپنا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔
یہاں ڈاکٹر رشید امجد کے ایسے تجزیوں کے چند اقتباس پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔
’’میرا جی خود کو تکلیف دے کر ایک طرح کی خوشی محسوس کرتے تھے۔ان کا کچھ تعلق ملامتی فرقے سے بھی بنتا ہے۔ملامتی خود کو برا بھلا کہہ کر ایک قسم کی روحانی بالیدگی حاصل کرتے ہیں۔میرا جی کے یہاں کچھ ملامتی اور کچھ بھگتی تحریک کے اثرات نے ایک ملی جلی کیفیت پیدا کر دی تھی لیکن مکمل طور پر انہیں کسی خانے یا خاص اثر کے تحت نہیں دیکھا جا سکتا۔بہت سے اثرات سے مل کر جو کچھ بنا وہ خالصتاََ’’میرا جیت‘‘ تھی‘‘(ص ۹۵)
’’یہ ان کا بہت سوچا سمجھا فیصلہ تھا کہ وہ ثناء اللہ ڈار کی حیثیت سے نہیں بلکہ میرا جی کی حیثیت سے زندہ رہیں گے۔انہوں نے اپنی شخصیت کی یہMyth ممکنہ رنج و غم سہہ کر بنائی تھی اور یہ محض ڈرامہ نہیں تھا کیونکہ ساری زندگی دکھوں کی نگری میں مارا مارا پھرنے والا مسافر اتنا طویل ڈرامہ نہیں کر سکتا۔یہ تو ایک شخصیت کیMyth کی تعمیر تھی جس کے لیے انہوں نے ثناء اللہ ڈار ہی کی قربانی نہیں دی بلکہ تمام ظاہری آرام و آسائش اور معمولات سے بھی کنارہ کشی کی۔زندگی کا جہنم بھوگ کر وہ میرا جی کو زندہ کر گئے۔یہی ان کا مقصد بھی تھا اوریہی ان کا ثمر بھی ہے۔(ص۱۰۵)
میرا جی کی نظم نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں:
’’میرا جی کی شاعری میں تنوع ہے ہی ایسا کہ اس کی کئی جہتیں وا ہوتی چلی جاتی ہیں‘‘(ص۱۵۸)
’’میرا جی کی نظموں کا منظر نامہ اتنا پھیلا ہوا اور متنوع ہے کہ اس میں داخلیت پسندی کا گزر ہی نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اس خارجی منظر نامے اور وسیع کینوس کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا ہے۔
داخلیت پسندی اور بیمار ذہنیت کے الزامات میرا جی پر ان لوگوں نے لگائے تھے جو ان کی نظموں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے۔‘‘(ص ۱۵۹)
میرا جی کی گیت نگاری اور غزل گوئی کے بارے میں ڈاکٹر رشید امجد اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں:
’’میرا جی کے گیتوں میں جو کرب اور دکھ ہے وہ ان کی ذات کے ایوان سے چھن چھن کر وہاں آرہا ہے اور خاص طور پر سنجوگ کی ایک کیفیت،تمناؤں کی مستقل کسک،اور آشاؤں کی ایک بے انت دنیا،یہ سب ان کی ذات کے وہ گوشے ہیں جو ان کے مزاج کو گیت کے قریب لاتے ہیں اور گیت بطور صنف ان کے اس مزاج سے ایسا تال میل کھاتا ہے کہ میرا جی کے گیت نہ صرف یہ کہ ایک انفرادی حیثیت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی ایک پہچان بھی بنتے ہیں‘‘(ص ۱۷۱۔۱۷۲)
’’میرا جی کی یہ غزلیں اسلوب اور اظہار کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ان کی لفظیات بھی وہی ہیں جو میرا جی کی نظموں اور گیتوں کی ہیں۔گویا انہوں نے اپنے گیتوں کے مزاج کو غزل کے مزاج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے،اس لیے یہ غزلیں نظم کا رنگ بھی لیے ہوئے ہیں‘‘(ص۱۸۷)
یہاں میں اپنی طرف سے یہ بات ایزاد کرنا چاہوں گا کہ میرا جی اپنے عہد کے نظم نگاروں میں بھی اور بعد میں آنے والے بیشتر اہم نظم نگاروں میں بھی اس لحاظ سے منفرد مثال ہیں کہ تخلیقی لحاظ سے جتنی ان کی نظمیں اعلیٰ پائے کی ہیں،اتنی ہی ان کی غزلیں بھی اعلیٰ پائے کی ہیں۔یہ الگ بات کہ انہوں نے غزلیں بہت کم کہی ہیں۔ان کے برعکس ہمارے بیشتراچھے نظم نگار (بہ استثنائے چند)جب غزل کہتے ہیں تو بہت ہی کمزور غزل کہہ پاتے ہیں۔
میرا جی کی تنقیدی بصیرت ان کی تنقیدی آراء سے عیاں ہے۔ایم ڈی تاثیر کی ایک نظم میں تخلص کے استعمال پر میرا جی نے اپنی رائے کا اظہار یوں کیا:
’’تخلص غزل کی پیداوار ہے اور غزل تک ہی اسے محدود رہنا چاہیے کیونکہ غزل میں اس کی کھپت بہت خوبی سے ہو جاتی ہے۔نظم میں اس کے استعمال سے تسلسل میں فرق پڑتا ہے۔خصوصاََ اس نظم میں جس کی خوبی اس کے تصورات کا بہاؤ ہے۔ایسی نظم میں موضوع سے قرب ہر لمحہ ضروری تھا اور تخلص موضوع کی بجائے شاعر کے قریب لے جاتا ہے۔‘‘(ص۲۰۰)
ڈاکٹررشید امجد نے میرا جی کی تنقید نگاری کے سلسلے میں کئی اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ان کے بقول:
’’میرا جی کا رجحان نفسیاتی تنقید کی طرف تھا لیکن انہوں نے نظموں کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے ایک فریم کے طور پر استعمال نہیں کیا۔انہوں نے مختلف شاعروں کی نظموں کا تجزیہ کیا ہے،ان میں ترقی پسند بھی شامل ہیں،جن کے نظریات سے ان کا بنیادی اختلاف تھا،لیکن انہوں نے ان کی نظموں کو ان کے نظریے کی روشنی میں رکھ کر ان کا فنی تجزیہ کیا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا جی فن پارے کو کسی مخصوص نظریے سے دیکھنے کی بجائے اس کی فنی حیثیت کو سامنے رکھتے تھے‘‘(ص۲۰۲)
’’نظم کے بنیادی خیال کی تلاش میرا جی کی تنقید کا مرکزی نقطہ ہے اور اس مرکزی نقطہ کو وہ اکثر نفسیاتی توجیہات سے واضح کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں‘‘(۲۰۴)
’’میرا جی کی تنقید میں ایک تحقیقی ذائقہ بھی شامل ہے۔یہ در اصل ان کے وسیع مطالعہ کی عطا ہے‘‘(۲۰۹)
میرا جی کی ایک خوبصورت نظم ’’میں ڈرتا ہوں مسرت سے‘‘دیکھیے:
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں کائناتی نغمۂ مبہم میں الجھا دے
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
مِری ہستی ہے اک ذرہ
کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے کہر عالم تاب کا نشہ
ستاروں کا علمبردار کر دے گی،مسرت میری ہستی کو
اگر پھر سے اسی پہلی بلندی سے ملا دے گی
تو میں ڈرتا ہوں۔۔۔ڈرتا ہوں
کہیں یہ میری ہستی کو بنادے خواب کی صورت
میں ڈرتا ہوں مسرت سے؍کہیں یہ میری ہستی کو
بھلا کر تلخیاں ساری
بنا دے دیوتاؤں سا
تو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا
زمانہ اپنی ہستی کا
اس نظم کے حوالے سے ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’ان کے نزدیک اگر انسانی زندگی سے درد کی میراث چھِن جائے تو آدمی محض دیوتا بن جاتا ہے،یا محض خواب۔میرا جی کے نزدیک تلخیوں سے بھرا ہوا انسان مسرت کے ان لمحوں سے زیادہ قیمتی ہے جہاں آدمی دیوتا بن جاتا ہے یا خواب۔دونوں کیفیتیں میرا جی کے یہاں ایک ہیں۔دنیا کے دکھوں سے بھرے لوگ ان کے نزدیک معراج انسانیت ہیں،اسی لیے انہیں وہ لوگ بھی عزیز ہیں جو دکھوں کی دلدل میں ہمیشہ پھنسے رہتے ہیں۔اس سے یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ وہ دکھوں کے حامی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان کے نزدیک انسان کا مقدر دکھوں سے عبارت ہے اور خوشیاں اس کے مقابلے میں نا پائیدار ہیں‘‘ (ص۱۵۰ )
اپنے تجزیے میں آگے چل کر ڈاکٹر رشید امجد نے مہابھارت کے حوالے سے ایک بڑی عمدہ مثال پیش کی ہے۔جنگ کے خاتمہ پر جب کرشن جی مہاراج دوارکا جانے لگے تو تو انہوں نے مہارانی کنتی سے کہا کہ اے ماتا ! میں واپس جانے لگا ہوں تم کوئی ور مانگ لو۔اس پر مہارانی کنتی نے پوچھا مہاراج آپ واپس کب آئیں گے؟
اس پر کرشن جی نے کہا کہ جب تم دکھ اور تکلیف میں ہو گی تب واپس آجاؤں گا۔اس پر ماتا کنتی نے ور مانگا کہ سدا دکھ اور تکلیف میں رہوں۔اس قصہ کو بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں:
’’کنتی اور میرا جی نے ایک ہی ور مانگا ہے یعنی دکھ اور تکلیف کا ور، لیکن کنتی اور میرا جی کے ور میں فرق یہ ہے کہ ماتا کنتی نے یہ ور کرشن جی کے درشنوں کے لیے مانگاتھا مگر میرا جی نے یہ خواہش بھی نہیں کی،انہوں نے ایک طرف تو دکھ اور تکلیف کا انتخاب کیا اور میرا سین کی واپسی کی خواہش کی بجائے خود میرا سین بن کر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے اندرسمو لیا۔رانجھا رانجھا کردی نی میں آپ ای رانجھا ہوئی‘‘(ص۱۵۱)
اپنے مقالہ کے صفحہ ۱۶۰ تا ۱۶۱ پر انہوں نے میرا جی کی نظم کی انفرادیت کے جو گیارہ نکات بیان کیے ہیں،وہ سب اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ ڈاکٹررشید امجدکی تحقیقی و تنقیدی بصیرت یہاں کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر رشید امجد کی یہ رائے میرا جی کی شخصیت کے ایک مخفی پہلو کو روشن کرتی ہے:
’’جنس کا حوالہ میرا جی کے ساتھ اس طرح چپک گیا ہے کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ میرا جی کا سارا مسئلہ جنس ہی ہے اور انہوں نے دوسرے مسائل کی طرف بالکل توجہ نہیں دی۔در اصل میرا جی کے شخصی افسانے نے ان کے گرد ایک ایسا ہالہ بنا دیا ہے کہ اس سے باہر نکلنے کی دوسروں نے کو ئی کو شش ہی نہیں کی اور عام لوگ میرا جی کو ان افسانوں اور ان کی شاعری پر ہونے والے سطحی اعتراضات ہی کے حوالے سے جانتے ہیں۔یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ میرا جی نے اپنے مضامین میں جس سیاسی اور سماجی شعور کا اظہار کیا ہے اور ان کے مضامین جس طرح بر صغیر کی سیاسی،سماجی اور اقتصادی صورت حال کا احاطہ کرتے ہیں وہ شعور ان کے بہت کم ہم عصروں کو حاصل تھا۔عام طور پر میرا جی کو اینٹی ترقی پسند سمجھا جاتا ہے لیکن میرا جی نے اپنے مضامین میں بر صغیر کی اقتصادی صورتحال کے جو تجزیے کیے ہیں وہ ان کے عہد کا بڑے سے بڑا ترقی ترقی پسندبھی نہیں کرتا‘‘(ص۲۸۷)
آج کل مابعد جدیدیت کے نام پر، قاری (در حقیقت غیر تخلیقی نقاد) کی قرات کو غیر ضروری بلکہ ناجائزاہمیت دلانے کا کھیل چل رہا ہے۔ یوں قاری کی اہمیت کے جو’’ راز‘‘ کھولے جارہے ہیں میرا جی نے کسی لسانی گورکھ دھندے کے بغیر آج سے ساٹھ ستر سال پہلے اس بات کا معقول پہلو آسان لفظوں میں بیان کر دیا تھا اور نا معقول پہلو آج کے مابعد جدید نقاد کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ان کے ایک مضمون کا یہ اقتباس دیکھیے :
’’ہر لفظ ایک تصور یا خیال کا حاصل ہے اور اس تصور یا خیال کے ساتھ ساتھ ہی اس کے لوازم بھی ایک ہالے کی مانند موجود ہوتے ہیں۔لوازم کا یہ ہالہ انفرادی انداز نظر کا پابند ہے،یعنی ایک ہی لفظ زیدکے لیے اور تلازم خیال ہے اور بکر کے لیے اور۔لیکن ایک ہی زبان سے بہت سے افراد کا مانوس ہونا مختلف افراد کے لیے الفاظ میں قریباََ قریباََ یکساں تلازم خیال پیدا کر دیتا ہے۔جب کوئی لفظ ہمارے فہم وادراک کے دائرے میں آتا ہے تو یہ تلازم خیال کا ہالہ ذہن میں ایک خاص ہیئت اختیار کرتا ہے اور جب اس پہلے لفظ کے ساتھ کوئی دوسرا لفظ ملایا جائے تو ہالہ اپنی ہیئت کو دوسرے لفظ کی مناسبت سے تبدیل کر لیتا ہے‘‘(ص۲۰۶)
میرا جی کے ادبی مقام کے تعین میں ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں:
’’میرا جی کے یہاں مادیت اور ماورائیت کا جو امتزاج نظر آتا ہے وہ انہیں اپنے عہد کے دوسرے شعراء سے منفرد و ممتاز بناتا ہے۔اپنے عہد کے مجموعی انتشار اور مختلف نظریات اور فلسفوں کی یلغار کے باوجود میرا جی کی شخصیت میں ایک روایتی عنصر بھی موجود تھا۔یہ عنصر ایک ایسی باطنی یا روحانی تنہائی ہے جس کے ڈانڈے صوفیانہ درد و غم سے جا ملتے ہیں۔یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسان کو اپنے آس پاس کی الجھنوں سے بے نیاز کر دیتا ہے‘‘ (ص۳۰۲)
’’یہ حقیقت ہے کہ میرا جی بیسویں صدی کے اردو ادب میں ایک اہم اور منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنی شاعری خصوصاََ نظموں کے ذریعے جدید اردو کی بنیاد رکھی اور اپنی تنقید کے توسط سے اردو شاعری کی تفہیم کی اور نئے تنقیدی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ان کا کام ان کی عظمت کی سند ہے کہ میرا جی اپنے عہد ہی میں نہیں،آج بھی ایک اہم ادبی شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘(۳۲۵)
ڈاکٹر رشید امجد نے اپنے مقالہ میں تحقیق کے تمام تقاضے پورے کرنے کے ساتھ اپنی تخلیقی اور تنقیدی بصیرت سے کام لیتے ہوئے میرا جی کی ادبی حیثیت پر دستاویزی نوعیت کا اہم اور یاد گار کام کر دیاہے۔
اس کتاب(مقالہ)کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے میرا جی سے بھر پور ملاقات کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) یہ نظم اب’’ کلیاتِ میرا جی‘‘میں ’’سلسلۂ روزو شب‘‘کے عنوان سے ملی ہے تاہم اس کی تیسری لائن
’’ہر اک سمت اس کے خلا ہی خلا ہے‘‘سے اندازہ ہوتا ہے کہ میری یادداشت میں ۳۶ سال پہلے کی پڑھی ہوئی نظم کا عنوان’’ خلا‘‘ کیوں رہ گیا تھا۔(ح۔ق
)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dienstag, 12. Juli 2011

لذتِ شام، شبِ ہجر خداد داد نہیں

غزل:میرا جی

لذتِ شام، شبِ ہجر خداد داد نہیں
اس سے بڑھ کر ہمیں رازِ غمِ دل یاد نہیں

کیفیت خانہ بدوشانِ چمن کی مت پوچھ
یہ وہ گلہائے شگفتہ ہیں جو برباد نہیں

یک ہمہ حسنِ طلب،یک ہمہ جانِ نغمہ
تم جو بیداد نہیں ہم بھی تو فریاد نہیں

زندگی سیلِ تن آساں کی فراوانی ہے
زندگی نقش گرِ خاطر ناشاد نہیں!

اُن کی ہر اک نگہ آموختۂ عکسِ نشاط
ہر قدم گرچہ مجھے سیلئ استاد نہیں

دیکھتے دیکھتے ہر چیز مٹی جاتی ہے
جنتِ حُسنِ نَفَس و جنتِ شداد نہیں

ہر جگہ حُسنِ فزوں اپنی مہک دیتا ہے
باعثِ زینتِ گل تو قدِ شمشاد نہیں

خانہ سازانِ عناصر سے یہ کوئی کہہ دے
پُر سکوں آبِ رواں ،نوحہ کناں باد نہیں
 

زندگی کش مکشِ حاصل و نا حاصل ہے

غزل:میرا جی


زندگی کش مکشِ حاصل و نا حاصل ہے
ماسوا اس کے ہر اک نقشِ جہاں باطل ہے

دُور ماضی کا اُفق،سامنے سیلِ امروز
وقت کا کٹتا کنارا تو یہ مستقبل ہے

دلِ محروم ہے عشاقِ تن آساں کا امیر
گرچہ ہر نورِ گریزاں کا یہی سائل ہے

مجھ سے تو بہجتِ آسودہ کا حاصل مت پوچھ
فکر،ہر رنگ میں لذت کے لیے قاتل ہے

ہاتھ پر ہاتھ دھرے عمر گزاری جس نے
کشتنی،سوختنی،جو بھی کہو یہ دل ہے

لبِ میگوں سے جو محرومی ہے تسلیم ہمیں
لذتِ تشنہ لبی اس میں مگر شامل ہے

تیرگی، موجۂ خونخوار، شکستہ کشتی
اور ذرا آنکھ اُٹھائی تو وہیں ساحل ہے

یہ تماشائے چمن نقشِ خط و رنگ نہیں
بہ تقاضائے حیا کاہشِ آب و گِل ہے

خدا

میرا جی

خدا


میں نے کب دیکھا تجھے روحِ ابد

ان گنت گہرے خیالوں میں ہے تیرا مرقد
صبح کا،شام کا نظارہ ہے
ذوقِ نظارہ نہیں چشمِ گداگرکو مگر

میں نے کب جانا تجھے روحِ ابد

راگ ہے تو پہ مجھے ذوقِ سماعت کب ہے
مادیّت کا ہے مِرا ذہن،مجھے
چھو کے معلوم یہ ہو سکتا ہے شیریں ہے ثمر
اور جب پھول کھلے اس کی مہک اُڑتی ہے
اپنی ہی آنکھ ہے اور اپنی سمجھ،کس کو کہیں۔۔تو مجرم

میں نے کب سمجھا تجھے روحِ ابد

خشک مٹی تھی مگر چشمِ زدن میں جاگی
اُسے بے تاب ہوا لے کے اُڑی
پھر کنارا نہ رہا،کوئی کنارا نہ رہا
بن گیا عرصۂ آفاق نشانِ منزل
زور سے گھومتے پہیے کی طرح
ان گنت گہرے خیال ایک ہوئے
ایک آئینہ بنا
جس میں ہر شخص کو اپنی تصویر
اپنے ہی رنگ میں اک لمحہ دکھائی دی تھی
ایک لمحے کے لیے
بن گیا عرصۂ آفاق نشانِ منزل

میں نے دیکھا ہے تجھے روحِ ابد

ایک تصویر ہے شب رنگ ،مہیب
درِ معبد پہ لرز اٹھے ہرایک کے پاؤں
ہاتھ ملتے ہوئے پیشانی تک آئے دونوں
خوف سے ایک ہوئے

میں تجھے جان گیا روحِ ابد

تو تصور کی تمازت کے سوا کچھ بھی نہیں
(چشمِ ظاہر کے لیے خوف کا سنگیں مرقد)
اور مِرے دل کی حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
اور مرے دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

تین رنگ